-Advertisement-

لوئیزیانا: گھریلو تنازع پر فائرنگ سے 8 بچے ہلاک

تازہ ترین

ریڈ زون کی بندش: وفاقی آئینی عدالت اور اسلام آباد ہائی کورٹ آج بند رہیں گی

اسلام آباد میں ریڈ زون کی بندش کے باعث وفاقی آئینی عدالت اور اسلام آباد ہائی کورٹ آج منگل...
-Advertisement-

شریو پورٹ پولیس نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز پیش آنے والے ہولناک واقعے میں آٹھ بچوں کو قتل کرنے والا ملزم شیمار ایلکنز گھریلو تنازعے میں ملوث تھا۔ حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملزم نے یہ اقدام کیوں اٹھایا، تاہم ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کسی دیرینہ گھریلو جھگڑے کا شاخسانہ ہے۔

شریو پورٹ پولیس چیف وین اسمتھ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ تمام شواہد اور اشارے ایک گھریلو تنازعے کی نشاندہی کر رہے ہیں اور غالب امکان ہے کہ یہ پہلی بار نہیں تھا جب اس قسم کی کشیدگی پیدا ہوئی ہو۔

پولیس کے مطابق ملزم شیمار ایلکنز نے آٹھ بچوں کو قتل کرنے سے قبل دو خواتین کو بھی فائرنگ کر کے شدید زخمی کیا، جن میں سے ایک اس کی اہلیہ اور دوسری اس کی گرل فرینڈ تھی۔ دونوں خواتین اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ گرل فرینڈ نے 911 پر کال کر کے پولیس کو بتایا تھا کہ ملزم نے اس کے گھر پر فائرنگ کی اور اس کے تین بچوں کو ساتھ لے گیا، جنہیں بعد ازاں پولیس نے بازیاب کروا لیا۔

واقعے کا آغاز اتوار کی صبح چھ بجے سے کچھ دیر قبل ہوا جب ایک خاتون نے گھر کی چھت سے پولیس کو کال کر کے مدد طلب کی۔ اس گھر میں مارے جانے والے بچوں کی عمریں تین سے گیارہ سال کے درمیان تھیں۔ پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی ملزم گاڑی چھین کر فرار ہو چکا تھا۔

پولیس چیف نے بتایا کہ فرار ہوتے ہوئے ملزم کا پولیس کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس کے بعد وہ ہلاک ہو گیا۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ملزم پولیس کی جوابی فائرنگ سے ہلاک ہوا یا اس نے خود کو گولی مار کر خودکشی کی۔ فائرنگ کا یہ تبادلہ شریو پورٹ سے چھ میل دور بوسیر سٹی میں پیش آیا۔

پولیس کے ریکارڈ کے مطابق شیمار ایلکنز کو 2019 میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں سزا ہو چکی تھی، جس کے تحت وہ بندوق رکھنے کا اہل نہیں تھا۔ حکام اب اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ملزم نے اس واردات میں استعمال ہونے والا اسالٹ طرز کا پستول کہاں سے حاصل کیا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -