-Advertisement-

ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں کروں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

تازہ ترین

ایران جنگ: برطانیہ کا فوسل فیول کے بجائے نیٹ زیرو اہداف پر کاربند رہنے کا اعلان

برطانیہ نے امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران کے پیش نظر نیٹ زیرو...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ موجودہ جنگ بندی میں توسیع نہیں کریں گے اور خبردار کیا ہے کہ اگر جلد کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کر رہا ہے اور ان کے پاس وقت بہت کم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں اور امریکی فوج کسی بھی وقت ایکشن لینے کے لیے بے تاب ہے۔

اس بیان کے ساتھ ہی امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے بین الاقوامی پانیوں میں ایران سے منسلک ایک آئل ٹینکر ٹفانی کو قبضے میں لے لیا ہے۔ یہ جہاز دو ملین بیرل خام تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور آخری بار سری لنکا کے قریب دیکھا گیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کو مادی مدد فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے کی گئی ہے۔ تہران کی جانب سے اس واقعے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم خدشہ ہے کہ اس سے سفارتی کوششیں پیچیدہ ہو جائیں گی۔

اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بھی غیریقینی صورتحال برقرار ہے۔ دو ہفتوں پر محیط جنگ بندی کا وقت ختم ہونے کے قریب ہے جبکہ تہران نے ابھی تک شرکت کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر وفود آتے ہیں تو ان کی آمد بدھ سے پہلے متوقع نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس کے اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے تاہم ایران اپنی شرائط پر اصرار کر رہا ہے جن میں یورینیم افزودگی کا حق شامل ہے۔

ایران کے ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کو غیر ملکی جہازوں کے لیے بند کر دیا ہے جس سے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور عالمی توانائی مارکیٹ میں تشویش پائی جاتی ہے۔

تنازع کا بنیادی مرکز ایران کا جوہری پروگرام ہے، جس پر ٹرمپ کا مطالبہ ہے کہ تہران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے دستبردار ہو اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کو روکے۔ سات اپریل کو شروع ہونے والی جنگ بندی بائیس اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کی ممکنہ میزبانی کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر بھر میں بیس ہزار کے قریب سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -