تھائی لینڈ نے میانمار کے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان میں دوبارہ شمولیت اور تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے فعال کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ تھائی وزیر خارجہ سہاسک پھوانگ کیتھکیو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک میانمار کی آسیان میں واپسی کے لیے حمایت کا خواہاں ہے تاہم اس کے لیے میانمار کو تنظیم کے تحفظات کو دور کرنا ہوگا۔
میانمار میں سن دو ہزار اکیس میں فوجی بغاوت کے بعد سے حالات عدم استحکام کا شکار ہیں جس کے باعث ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر آسیان نے میانمار کے فوجی حکمرانوں کو اپنے سربراہی اجلاسوں میں شرکت سے روک دیا تھا۔ ان نوسٹھ سالہ من آنگ ہلینگ کو تین اپریل کو پارلیمنٹ نے صدر منتخب کیا تھا جس کے بعد ان کی حکومت نے اقتدار پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے۔
آسیان کے رکن ممالک میانمار میں قیام امن کے لیے طے شدہ منصوبے پر عمل درآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ آسیان کی جانب سے میانمار کی نئی حکومت کو تاحال باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے اور تنظیم کا آئندہ اجلاس اگلے ماہ فلپائن میں متوقع ہے۔
تھائی وزیر خارجہ نے گزشتہ ہفتے میانمار میں قیدیوں کی رہائی کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے جس میں سابق صدر ون مائنٹ کی رہائی اور نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی سزا میں کمی شامل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تشدد میں کمی اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی اداروں کو رسائی دی جائے گی۔
صدر من آنگ ہلینگ نے اپنے افتتاحی خطاب میں امن اور مفاہمت کو ترجیح قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے حزب اختلاف کے مسلح گروپوں کو جولائی کے آخر تک مذاکرات کی دعوت بھی دی تھی تاہم دو اہم باغی گروپوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔
