-Advertisement-

امریکی مخالفت کے باوجود مشیل بیچلیٹ خواتین کے حقوق کے دفاع پر ڈٹی رہیں

تازہ ترین

پہلگام واقعہ: ایک سال گزرنے کے باوجود بھارت ثبوت پیش کرنے میں ناکام، عطا تارڑ کا بیان

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پہلگام واقعہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا...
-Advertisement-

چلی کی سابق صدر مشیل بیچلیٹ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے اپنی مہم کے دوران خواتین کے حقوق کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ چوہتر سالہ بیچلیٹ کا کہنا ہے کہ اگر وہ اقوام متحدہ کی سربراہ منتخب ہوئیں تو ان کی اولین ترجیح خواتین کے حقوق سے متعلق عالمی ایجنڈے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔

مشیل بیچلیٹ کو امریکی ریپبلکن قانون سازوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہے، جنہوں نے ان پر اسقاط حمل کے ایجنڈے کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واشنگٹن ان کی نامزدگی کو ویٹو کرے۔ اس حوالے سے نیویارک میں تین گھنٹے کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیچلیٹ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ ہمیشہ خواتین کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں گی اور حقوق نسواں کے لیے پیشرفت کو جاری رکھنا ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے ہونے والی اس دوڑ میں بیچلیٹ کے علاوہ ارجنٹائن کے رافیل گروسی، کوسٹا ریکا کی ربیکا گرین اسپن اور سینیگال کے میکی سال بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی اسی سالہ تاریخ میں اب تک کوئی خاتون اس ادارے کی سربراہی نہیں کر سکی ہے، جبکہ روایتی طور پر یہ عہدہ لاطینی امریکہ کے حصے میں آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ادارے کے موجودہ سربراہ انتونیو گوتریس کے جانشین کے لیے چیلنجز انتہائی سنگین ہیں۔ عالمی طاقتوں کی جانب سے اقوام متحدہ پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اخراجات میں کمی لائے اور اپنی افادیت کو ثابت کرے۔ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو صرف بلند و بانگ دعوے کرنے کے بجائے زمینی حقائق پر مبنی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔

دوسری جانب کوسٹا ریکا کی ربیکا گرین اسپن اور سینیگال کے سابق صدر میکی سال بھی اپنی اپنی ترجیحات پیش کر رہے ہیں۔ جہاں گرین اسپن خود کو اصلاح پسند کثیر الجہتی حامی کے طور پر پیش کر رہی ہیں، وہیں میکی سال افریقی ممالک کی ترقی اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک کی حمایت پر زور دے رہے ہیں۔ سیکرٹری جنرل کے انتخاب کا عمل طویل اور پیچیدہ ہے، جس میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کی حمایت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -