بھارتی تاریخ میں فالس فلیگ آپریشنز ایک تاریک باب کی حیثیت رکھتے ہیں جن کا مقصد اندرونی انتشار، اقلیتوں پر مظالم اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی سے توجہ ہٹانا ہے۔ یہ ایک معمول بن چکا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد بھارتی گودی میڈیا کے ذریعے پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانیے کو فروغ دیا جاتا ہے۔
ان کارروائیوں کے پس منظر میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتار افراد کو جعلی مقابلوں میں مار کر دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر 23 اپریل 2025 کو بھارتی فوج نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کر دیا اور اس واقعے کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی مذموم کوشش کی۔
مقبوضہ وادی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز ظلم و ستم کی انتہا کر رہی ہیں اور عام شہریوں کو دہشت گرد قرار دے کر شہید کیا جا رہا ہے۔ خوف و ہراس پھیلانے کے لیے بھارتی فوج بزرگ شہریوں کو بھی بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر رہی ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق خدشہ ہے کہ مستقبل میں بھی بھارت قیدیوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کر کے انہیں دہشت گردوں کے طور پر پیش کرے گا، جبکہ گودی میڈیا ہمیشہ کی طرح اس پرانے اسکرپٹ کے تحت بے گناہ مسلمانوں کو دہشت گرد بنا کر دکھائے گا تاکہ اپنی داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ مزید برآں، یہ غیر قانونی قتل عام اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ پہلگام کا واقعہ مودی کے سیاسی عزائم کے حصول کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کا ہی ایک تسلسل تھا۔
