برطانیہ میں تمباکو نوشی کے انسداد کے لیے ایک تاریخی قانون سازی مکمل کر لی گئی ہے جس کے تحت 17 سال یا اس سے کم عمر بچوں اور مستقبل میں پیدا ہونے والے کسی بھی شخص کے لیے سگریٹ کی خریداری پر تاحیات پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ قانون سازوں کی جانب سے منظور کیے گئے اس سخت بل کے تحت یکم جنوری 2009 کو یا اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد کے لیے تمباکو کی خریداری کی قانونی عمر میں ہر سال ایک سال کا اضافہ کیا جائے گا۔
برطانوی حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد نوجوان نسل کو نکوٹین کی لت سے بچانا اور نیشنل ہیلتھ سروس پر پڑنے والے طویل مدتی بوجھ کو کم کرنا ہے۔ یہ قانون آئندہ ہفتے شاہی منظوری کے بعد نافذ العمل ہو جائے گا جس کے تحت ویپنگ اور نکوٹین مصنوعات کی 18 سال سے کم عمر افراد کو فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان مصنوعات کی تشہیر، نمائش، مفت تقسیم اور رعایت پر بھی سخت قدغنیں لگائی گئی ہیں۔
برطانیہ کے سیکریٹری صحت ویس اسٹریٹنگ نے اس قانون کی منظوری کو قوم کی صحت کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے بچے پہلی سگریٹ نوشی سے پاک نسل کا حصہ بنیں گے اور انہیں زندگی بھر کی لت اور نقصانات سے تحفظ حاصل ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے اور یہ اصلاحات نہ صرف انسانی جانیں بچائیں گی بلکہ صحت کے شعبے پر بوجھ کم کر کے ایک صحت مند برطانیہ کی تعمیر میں مددگار ثابت ہوں گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں تمباکو نوشی ہر سال تقریباً 64 ہزار اموات اور چار لاکھ افراد کے ہسپتال میں داخلے کا سبب بنتی ہے۔ اس سے نیشنل ہیلتھ سروس کو سالانہ تین ارب پاؤنڈ کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے جبکہ مجموعی معاشی نقصانات 20 ارب پاؤنڈ سے تجاوز کر جاتے ہیں۔
نئے قانون کے تحت حکومت کو تمباکو، ویپنگ اور نکوٹین مصنوعات کے ذائقوں اور پیکجنگ کو ریگولیٹ کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ ایک فلاحی ادارے ایکشن آن سموکنگ اینڈ ہیلتھ کے مطابق برطانیہ میں تقریباً 55 لاکھ افراد ویپنگ کا استعمال کرتے ہیں، جن میں سے نصف سابق سگریٹ نوش ہیں جبکہ 40 فیصد افراد سگریٹ نوشی کے ساتھ ساتھ ویپنگ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
