-Advertisement-

آبنائے ہرمز: ایرانی تیز رفتار کشتیوں کے حملوں سے عالمی جہاز رانی کے لیے خطرات میں اضافہ

تازہ ترین

روسی حملے کی صورت میں امریکی وفاداری پر پولینڈ کے وزیراعظم کو شکوک و شبہات

پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے لیے سب سے اہم اور بنیادی سوال...
-Advertisement-

آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فورسز کی جانب سے دو کنٹینر بردار جہازوں کو قبضے میں لینے کے واقعے نے امریکی دعووں کو چیلنج کر دیا ہے کہ ایران کی بحری صلاحیتیں مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں۔ اس پیش رفت نے ثابت کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی تیز رفتار کشتیوں کا دستہ اب بھی خطے میں ایک بڑا خطرہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز تسلیم کیا کہ اگرچہ ایران کی روایتی بحریہ کو کافی حد تک تباہ کیا جا چکا ہے تاہم ان کی تیز رفتار حملہ آور کشتیاں بدستور فعال ہیں۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ کشتیاں امریکی ناکہ بندی کے قریب آئیں تو انہیں فوری طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مقصد کے لیے وہی طریقہ کار اپنایا جائے گا جو کیریبین اور بحر الکاہل میں منشیات کے خلاف آپریشنز کے دوران استعمال کیا گیا جہاں فضائی حملوں میں کم از کم 110 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی کشتیاں عام تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ بھاری مشین گنوں، راکٹ لانچرز اور بعض صورتوں میں اینٹی شپ میزائلوں سے لیس ہیں۔ میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ڈائپلس کے مطابق یہ کشتیاں اب ایک مربوط عسکری نظام کا حصہ ہیں جس میں ساحلی میزائل، ڈرونز اور الیکٹرانک مداخلت شامل ہے تاکہ امریکی فیصلہ سازی کو سست کیا جا سکے۔

خشکی اور سمندر میں موجود ماہرین کے مطابق ایران کے پاس سینکڑوں کی تعداد میں ایسی کشتیاں موجود ہیں جو ساحلی سرنگوں یا شہری جہازوں کے درمیان چھپائی گئی ہیں۔ ڈرائیڈ گلوبل کے سی ای او کوری رینسلم کے مطابق 28 فروری کو ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک تقریباً 100 کشتیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ آٹھ اپریل کو جنگ بندی سے قبل ایران میزائل اور ڈرون حملوں پر انحصار کرتا تھا، لیکن اب یہ تیز رفتار کشتیاں ایرانی بحری حکمت عملی کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہیں۔ ایک ایرانی سیکیورٹی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کشتیوں کی تیز رفتاری انہیں ہٹ اینڈ رن حملوں میں کامیابی فراہم کرتی ہے۔

دفاعی امور کے ماہر جیریمی بینی نے متنبہ کیا ہے کہ ان چھوٹی کشتیوں کو ختم کرنا ایران کی بڑی بحری تنصیبات کو تباہ کرنے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کشتیاں جنگی جہازوں کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹک سکتیں تاہم ان کا گوریلا انداز اور کثیر الجہتی حملے امریکی فضائیہ کے لیے بھی چیلنج بن سکتے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی شپنگ انڈسٹری میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور انشورنس کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -