-Advertisement-

امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد روس اور ایران کے صدور کا قریبی رابطے برقرار رکھنے کا فیصلہ

تازہ ترین

امریکا ایران کشیدگی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 2 ہزار پوائنٹس کی بڑی گراوٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آخری روز شدید مندی کا رجحان رہا اور جیو پولیٹیکل کشیدگی کے...
-Advertisement-

ماسکو میں ایرانی سفیر کاظم جلالی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان سیاسی تعلقات بین الاقوامی فورمز پر بدستور مستحکم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین گہرا رابطہ قائم ہے اور امریکا و اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی کارروائی کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان تین بار ٹیلی فونک رابطہ ہو چکا ہے۔

ایرانی سفیر کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان بھی موثر ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہے جو دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔

کاظم جلالی نے بتایا کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا تھا جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اس تنازع کے دوران 40 دنوں میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر 3 ہزار 375 ایرانی شہری جاں بحق ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق 7 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم کئی دور کے مذاکرات کے باوجود فریقین کے درمیان کوئی طویل مدتی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

اکیس اپریل کو صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں ممکنہ توسیع کا اشارہ دیا تھا۔ تاہم ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران یکطرفہ توسیع کو قبول کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور وہ اپنے قومی مفادات کو ترجیح دے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -