-Advertisement-

ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی میں طویل عرصہ لگے گا، متحدہ عرب امارات

تازہ ترین

گھانا میں احتجاج کے بعد جنوبی افریقہ کا غیر ملکیوں پر حملوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان

جوہانسبرگ میں جنوبی افریقی حکام نے غیر ملکی شہریوں بالخصوص گھانا کے باشندوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں اور تعصب...
-Advertisement-

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور گرگاش نے کہا ہے کہ تہران اور ابوظہبی کے مابین اعتماد کی بحالی میں طویل عرصہ درکار ہوگا۔ فرانس کے شہر شانٹیلی میں عالمی پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اب اعتماد کی بات کرنا ناممکن ہے۔

انور گرگاش نے انکشاف کیا کہ ایران کے حملوں کے دوران 2800 میزائل اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا جن میں سے 89 فیصد حملوں کا ہدف شہری آبادی، سول تنصیبات اور توانائی کے مراکز تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران نے خلیجی ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ ان کی سٹریٹیجک کیلکولیشن میں عرب ممالک کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور یہ تاثر طویل عرصے تک قائم رہے گا۔

متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا کہ خطے بالخصوص متحدہ عرب امارات کے لیے ایران اب ایک سٹریٹیجک خطرہ بن چکا ہے۔ فروری کے اواخر میں اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والے تنازع نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس کے دوران تہران نے خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا۔

اگرچہ رواں ماہ کے آغاز میں فائر بندی پر اتفاق کیا گیا تھا تاہم پاکستان میں جاری امن مذاکرات گزشتہ چند روز سے تعطل کا شکار ہیں۔ جنگ بندی کے بعد امریکہ اور ایران کی توجہ آبنائے ہرمز کی جانب منتقل ہو گئی ہے جہاں سے دنیا بھر کی پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

ایران نے جنگ کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو تقریباً بند کر رکھا ہے جبکہ امریکہ نے بھی ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی کر دی ہے۔ انور گرگاش کا اس سے قبل یہ کہنا تھا کہ ایران کی علاقائی حکمت عملی کے نتیجے میں خلیج میں اسرائیل کا اثر و رسوخ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -