-Advertisement-

گھانا میں احتجاج کے بعد جنوبی افریقہ کا غیر ملکیوں پر حملوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد تجارتی جہازوں کو امریکی بحری تحفظ کی ضرورت ہوگی، شیورون سی ای او

واشنگٹن میں شیورون کے چیف ایگزیکٹو مائیک ورتھ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بعد...
-Advertisement-

جوہانسبرگ میں جنوبی افریقی حکام نے غیر ملکی شہریوں بالخصوص گھانا کے باشندوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں اور تعصب پر مبنی حملوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے بعد سامنے آئی ہے جن میں غیر ملکیوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

گھانا کی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ سیموئیل اوکوزیتو ابلاکوا نے جنوبی افریقہ کے سفیر کو طلب کر کے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

گھانا کی جانب سے یہ اقدام صوبہ کوازولو ناتال میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد اٹھایا گیا جس میں ایک گھانا کے شہری کو ہراساں کیا گیا، اس سے قانونی دستاویزات کا مطالبہ کیا گیا اور اسے ملک چھوڑنے کی دھمکی دی گئی۔

جنوبی افریقہ کی وزارت پولیس نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ زینو فوبیا یا غیر ملکیوں کے خلاف نفرت انگیز کارروائیوں میں ملوث افراد کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کیا جائے گا اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

جنوبی افریقہ کے وزیر خارجہ رونالڈ لامولا نے سرکاری حکام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے آئینی نظام میں قانون شکنی، دھونس اور تارکین وطن برادری کے خلاف تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پرتشدد واقعات ملک کے آئینی نظم کے لیے خطرہ ہیں۔

پولیس نے کمیونٹی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے گروپوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مزید حملوں کو روکنے اور باہمی مکالمے کو فروغ دینے کے لیے حکام کے ساتھ تعاون کریں۔

دوسری جانب مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں معاشی مشکلات کا ذمہ دار غیر ملکیوں کو ٹھہرایا جا رہا ہے اور انہیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -