-Advertisement-

پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر نوشین زیدی باوقار جارج فورسٹر ریسرچ ایوارڈ سے نوازا گئیں

تازہ ترین

روس اور بیلاروس کے کھلاڑیوں کی شمولیت پر فن لینڈ کا عالمی مقابلوں کی میزبانی سے بائیکاٹ

فن لینڈ نے عالمی تیراکی کے نگران ادارے ورلڈ ایکواٹکس کے روس اور بیلاروس کے کھلاڑیوں کو مقابلوں میں...
-Advertisement-

نامور پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر نوشین زیدی جارج فورسٹر ریسرچ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی بن گئی ہیں۔ یہ باوقار اعزاز انہیں ان کی تعلیمی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر زیدی پنجاب یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف مائیکرو بائیولوجی اینڈ مالیکیولر جینیٹکس میں پبلک ہیلتھ، انوائرنمنٹ اینڈ اپلائیڈ ریسرچ لیب میں بطور پروفیسر خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔

جارج فورسٹر ریسرچ ایوارڈ ہر سال الیگزینڈر وان ہمبولٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے ترقی پذیر ممالک کے ان ماہرین تعلیم کو دیا جاتا ہے جن کی تحقیقی خدمات بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہوں۔ اس ایوارڈ کا نام جرمن ماہر بشریات جارج فورسٹر کے نام پر رکھا گیا ہے جبکہ اس کے لیے فنڈنگ جرمن وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون اور ترقی فراہم کرتی ہے۔ اس ایوارڈ کے ساتھ ساٹھ ہزار یورو کی تحقیقی گرانٹ بھی دی جاتی ہے۔

ڈاکٹر نوشین زیدی کے اس اعزاز کے موقع پر اسلام آباد میں تعینات جرمن سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن آرنو کرچوف نے جمعہ کی شام لاہور کے این میری شمل ہاؤس میں ایک استقبالیہ دیا جس میں ممتاز علمی اور سائنسی شخصیات نے شرکت کی۔

ڈاکٹر زیدی نے جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹوبنگن سے بائیو کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور وہ اس سے قبل البرٹ آئن سٹائن کالج آف میڈیسن اور جینسن فارماسیوٹیکل جیسے اداروں کے ساتھ بھی وابستہ رہی ہیں۔

لیبارٹری تحقیق کے علاوہ ڈاکٹر نوشین زیدی ایکشن ریسرچ کلیکٹو کی ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے وہ ملک بھر میں پانی کے معیار کی جانچ کے منصوبے کی قیادت کر رہی ہیں جسے پاکستان کے کئی شہروں تک وسیع کیا جا رہا ہے۔

وہ روشن کلینکس نامی اقدام کی بھی سربراہی کر رہی ہیں جو بچوں میں نشوونما کی کمی اور سٹنٹنگ کے مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ان کی خدمات کو جدید سائنسی تحقیق اور عوامی سطح پر مثبت اثرات پیدا کرنے کا ایک بہترین امتزاج قرار دیا جاتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -