-Advertisement-

بھارت کی ریاست منی پور میں نسلی فسادات، 3 افراد ہلاک

تازہ ترین

ٹرمپ کا جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اپنے خصوصی نمائندوں اسٹیو وٹکوف...
-Advertisement-

بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں نسلی گروہوں کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ریاست کے ضلع اکھرول کے گاؤں ملم میں پیش آیا جہاں فریقین کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ حکام نے ہلاک ہونے والے افراد کے نسلی پس منظر کے بارے میں تاحال کوئی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور علاقے میں آپریشن تاحال جاری ہے۔

منی پور میں ہندو اکثریتی میتی اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے کوکی گروپوں کے درمیان گزشتہ تین برسوں سے وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں اب تک 250 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ان نسلی فسادات کی بنیادی وجہ زمین کی ملکیت اور سرکاری ملازمتوں پر اختیار حاصل کرنے کی کشمکش ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے مقامی قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیاسی مفادات کے حصول کے لیے نسلی تقسیم کو ہوا دے رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں شروع ہونے والی بدامنی کے باعث تقریباً 60 ہزار افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

رواں ماہ کے اوائل میں بھی تشدد کے واقعات پیش آئے تھے جن میں دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک کوکی گروپ کے حملے کے بعد میتی ہجوم نے پیراملٹری کیمپ پر دھاوا بھی بول دیا تھا۔

دوسری جانب منی پور اور میزورم سے تعلق رکھنے والے بنی منشی برادری کے 249 افراد جمعرات کے روز تل ابیب پہنچ گئے ہیں۔ یہ افراد خود کو اسرائیل کے گمشدہ قبائل کی اولاد قرار دیتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے نومبر میں اس برادری کے تقریباً 6 ہزار افراد کی ہجرت کے اخراجات اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد یہ پہلا گروپ ہے جو اسرائیل پہنچا ہے۔ یہ لوگ انیسویں صدی میں مشنریوں کے زیر اثر مسیحیت میں داخل ہوئے تھے تاہم ان کی زبانی روایات کے مطابق وہ صدیوں قبل ایران، افغانستان، تبت اور چین کے راستے ہجرت کر کے یہاں پہنچے تھے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -