-Advertisement-

قطر میں موجود افغان شہری مکمل اعتماد کے ساتھ وطن واپس آ سکتے ہیں، طالبان حکومت

تازہ ترین

پاکستان جوہری تحفظ کے عالمی معیارات پر کاربند ہے، صدر آصف علی زرداری

صدر آصف علی زرداری نے جوہری تحفظ اور سلامتی کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان...
-Advertisement-

دوحہ میں قائم امریکی فوجی اڈے پر موجود گیارہ سو سے زائد افغان شہریوں کی واپسی کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے قطر میں قائم اس کیمپ کو اکتیس مارچ تک بند کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے، جس کے بعد وہاں مقیم افغان باشندوں کے پاس اپنے وطن واپسی یا کسی تیسرے ملک منتقلی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔

طالبان حکومت نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو افغان شہری امریکی افواج کے ساتھ کام کرنے کے باعث انتقامی کارروائیوں کے خوف سے ملک چھوڑ گئے تھے، وہ اب پورے اعتماد کے ساتھ اپنے وطن واپس آ سکتے ہیں۔

افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق قطر میں امریکی ویزوں کے منتظر افغان شہریوں کو اپنے وطن واپسی یا کسی تیسرے ملک میں آباد ہونے کا انتخاب دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ افغانستان تمام افغانوں کا مشترکہ وطن ہے اور اس کے دروازے ان تمام لوگوں کے لیے کھلے ہیں جو واپس آنا چاہتے ہیں۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں سکیورٹی کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چھ نومبر سے پچیس جنوری کے دوران سابق حکومتی عہدیداروں اور سکیورٹی فورسز کے ارکان کی اونتیس غیر قانونی گرفتاریاں کی گئیں اور چھ مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے، جن میں وہ افراد بھی شامل تھے جو وطن واپس لوٹے تھے۔

دوسری جانب افغان شہریوں کی مدد کرنے والی تنظیم افغان ایویک نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن نے قطر میں موجود افغانوں کو جمہوریہ کانگو منتقل ہونے یا طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان واپس جانے کا آپشن دیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ شان وان ڈائیور نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگی اتحادیوں کو امریکی تحویل سے نکال کر ایک ایسے ملک میں بھیجنا جہاں خود شدید بحران ہو، مناسب اقدام نہیں ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں موقف اختیار کیا کہ قطر کیمپ میں موجود افغانوں کو تیسرے ملک منتقل کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے، جس کا مقصد ان افراد کو محفوظ زندگی فراہم کرنا اور امریکی عوام کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

یاد رہے کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں ایک لاکھ نوے ہزار سے زائد افغان شہریوں کو امریکا منتقل کیا گیا تھا، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن پالیسیوں میں سختی کرتے ہوئے افغانوں کی آبادکاری کے پروگرام کو روک دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ برس واشنگٹن میں ایک افغان شہری کی جانب سے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکا میں افغان پناہ گزینوں کی جانچ پڑتال کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -