برطانیہ کے بادشاہ چارلس پیر کے روز سے امریکہ کا دورہ شروع کر رہے ہیں جو کہ امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ تین برس قبل تاجپوشی کے بعد بادشاہ چارلس کا پہلا دورہ امریکہ ہوگا۔
بکنگھم پیلس کے مطابق یہ دورہ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان تاریخی تعلقات اور موجودہ دوطرفہ روابط کے جشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور یورپ کے درمیان روایتی طور پر قریبی تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔
برطانیہ اور امریکہ کے درمیان دہائیوں سے خصوصی تعلقات قائم رہے ہیں جنہیں ونسٹن چرچل نے خصوصی تعلق قرار دیا تھا۔ ستمبر میں صدر ٹرمپ نے برطانیہ کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے بادشاہ کے ساتھ بگھی میں سفر کیا، فوج کا معائنہ کیا اور ریاستی ضیافت میں شرکت کی۔
حال ہی میں صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ پر برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ردعمل پر تنقید نے برطانیہ میں ناراضگی پیدا کی ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے برطانیہ کے دو طیارہ بردار بحری جہازوں کو کھلونوں سے تشبیہ دی تھی۔
بادشاہ چارلس ایک آئینی حکمران ہیں جنہیں برطانوی حکومتی پالیسیوں کے تعین کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ تاہم شاہی خاندان اپنی شان و شوکت کے ذریعے ایک خاص سفارتی اثر و رسوخ رکھتا ہے اور توقع ہے کہ بادشاہ اس دورے کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔
دورے کے دوران بادشاہ چارلس کو کچھ چیلنجز کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ امریکی قانون سازوں کا ایک گروپ مطالبہ کر رہا ہے کہ بادشاہ کے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر، جو سابقہ طور پر پرنس اینڈریو کے نام سے جانے جاتے تھے، جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات پر کانگریس کے سامنے گواہی دیں۔ یہ معاملہ واشنگٹن میں بادشاہ کے لیے خجالت کا باعث بن سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کے آخر میں تصدیق کی تھی کہ بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا پیر سے جمعرات تک امریکہ کا دورہ کریں گے۔
شیڈول کے مطابق بادشاہ چارلس کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے اور وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ضیافت میں شرکت کریں گے۔ شاہی جوڑے کا نیویارک شہر کا دورہ بھی طے شدہ پروگرام کا حصہ ہے۔ ہیلی اوٹ نے اس رپورٹ کی تیاری میں معاونت کی ہے۔
