لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے میں توسیع کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق نبطیہ کے علاقے یوحمر الشقیف میں ایک ٹرک اور موٹر سائیکل پر اسرائیلی حملے میں چار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
وزارت نے مزید بتایا کہ بنت جبیل کے علاقے صفد البطیخ میں ایک اور فضائی حملے میں دو افراد ہلاک جبکہ سترہ زخمی ہوئے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حزب اللہ کے تین کارندوں کو ایک ہتھیاروں سے لدی گاڑی میں اور ایک کو موٹر سائیکل پر سوار ہونے کے دوران نشانہ بنایا جبکہ دو دیگر مسلح افراد کو بھی ہلاک کیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے لبنان سے دو راکٹ داغے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ جواب میں حزب اللہ نے یوحمر الشقیف پر حملے کے ردعمل میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی گاڑی کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ وہ جنگ بندی کی شرائط کے تحت فوری خطرات کے پیش نظر فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ سترہ اپریل سے شروع ہونے والی دس روزہ جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔ تہران کی حمایت یافتہ حزب اللہ دو مارچ کو ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سے اسرائیل کے خلاف لڑائی میں شامل ہے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے جنوبی لبنان کے مختلف مقامات پر اسرائیلی توپ خانے سے گولہ باری کی اطلاع دی ہے۔ خیام کے تزویراتی قصبے میں ایک زوردار دھماکے کی بھی تصدیق ہوئی ہے جہاں اسرائیلی فوج مبینہ طور پر گھروں کو منظم طریقے سے تباہ کر رہی ہے۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بارڈر کے ساتھ دس کلومیٹر طویل پیلی پٹی کے اندر واقع علاقوں میں واپس نہ جائیں۔ حکام کے مطابق دو مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں لبنان میں کم از کم دو ہزار چار سو چھیانوے افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ علی فیاض نے جمعہ کو واضح کیا تھا کہ ان کی تنظیم ہر اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتی ہے اور جاری دشمنی کے پیش نظر جنگ بندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔
