-Advertisement-

صدر ٹرمپ کی پاکستان کی امن کوششوں کی ایک بار پھر تعریف، پاکستان کے لیے گہرے احترام کا اظہار

تازہ ترین

ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان: ایٹمی مذاکرات کا کوئی ایجنڈا نہیں، ایرانی میڈیا

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک بار پھر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں وہ پاکستانی حکام کے ساتھ...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں پاکستان کے لیے گہرا احترام ہے اور اسلام آباد کا کردار شاندار رہا ہے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے امن مذاکرات کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور وہ اس عمل میں بدستور شامل رہے گا۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر ایران بات چیت کا خواہشمند ہے تو وہ خود رابطہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ مذاکرات کے لیے طویل سفر کرنے کے بجائے محفوظ ٹیلی فون لائنز کے ذریعے بات چیت کو ترجیح دیتا ہے۔

ایٹمی پروگرام پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے یہ شرط لازم ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، بصورت دیگر ملاقات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

قبل ازیں صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو شاندار اور وزیر اعظم شہباز شریف کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن دیکھنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا ہے، جس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اسلام آباد سے دورہ مکمل ہو گیا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -