-Advertisement-

کولمبیا کے ‘کوکین ہپوز’ کو بچانے کے لیے اننت امبانی کی پیشکش

تازہ ترین

پنجاب میں سیاحت کے فروغ کے لیے پہلی بار بین الاقوامی سرمایہ کاری ایکسپو کا انعقاد

حکومت پنجاب نے لاہور میں اپنی نوعیت کی پہلی جامع سیاحتی نمائش کا انعقاد کیا ہے جسے صوبے کو...
-Advertisement-

بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کے صاحبزادے اننت امبانی نے کولمبیا میں موجود کوکین ہپوز کے نام سے مشہور دریائی گھوڑوں کو تلف کیے جانے سے بچانے کی پیشکش کر دی ہے۔ اننت امبانی نے کولمبیا کی حکومت سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ ان جانوروں کو مارنے کا فیصلہ واپس لیا جائے اور انہیں بھارت منتقل کرنے کی اجازت دی جائے۔

اننت امبانی نے تجویز دی ہے کہ ان اسی دریائی گھوڑوں کو گجرات میں واقع ان کے جانوروں کے مرکز ونتارا منتقل کر دیا جائے۔ ونتارا کا شمار دنیا کے بڑے وائلڈ لائف ریسکیو اور تحفظ کے مراکز میں ہوتا ہے جہاں پہلے ہی سینکڑوں ہاتھی، شیر، تیندوے اور مگرمچھ موجود ہیں۔

کولمبیا میں یہ دریائی گھوڑے منشیات کے سمگلر پابلو ایسکوبار کی وراثت سمجھے جاتے ہیں، جنہوں نے اسی کی دہائی میں انہیں افریقہ سے منگوایا تھا۔ ایسکوبار کی موت کے بعد یہ جانور دریائے میگڈالینا کے کناروں پر آباد ہو گئے اور مقامی ماہی گیروں پر حملوں کے بعد حکومت نے انہیں حملہ آور نسل قرار دے کر تلف کرنے پر غور شروع کر دیا تھا۔

حکومتی حکام کے مطابق ان جانوروں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف نس بندی کافی نہیں ہے جبکہ انہیں بیرون ملک منتقل کرنے پر پینتیس لاکھ ڈالر تک کا خرچ اٹھ سکتا ہے۔ اننت امبانی کا کہنا ہے کہ ان کے مرکز میں ماہرین کی زیر نگرانی ان جانوروں کے لیے قدرتی ماحول فراہم کیا جائے گا اور اس پوری مہم کا خرچ ان کا ادارہ اٹھائے گا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جانور اپنے حالات کے خود ذمہ دار نہیں ہیں اور ایک انسان دوست حل موجود ہونے کی صورت میں انہیں بچانا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ تاہم ونتارا کے بارے میں ماہرین کی جانب سے ماضی میں بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور وہاں جانوروں کی بڑی تعداد میں منتقلی پر احتجاج بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

کولمبیا کے مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریائی گھوڑے مقامی آبی حیات جیسے کہ مانٹیز اور کچھووں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں اور ان کا فضلا دریاؤں کو زہریلا کر رہا ہے۔ انسانی حقوق اور جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا موقف ہے کہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے ان جانوروں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا بہتر اقدام ہوگا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -