سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز یعنی ای ٹی ایف میں اصلاحات کے لیے جامع روڈ میپ کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ منگل کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ ای ٹی ایف سے متعلق ورکنگ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
اصلاحاتی روڈ میپ پر عمل درآمد کا عمل مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پاکستان اسٹاک ایکسچینج، نیشنل کلیئرنگ کمپنی، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی، میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان، سیکیورٹیز بروکرز اور اثاثہ جات کی انتظامی کمپنیوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
نئے فریم ورک کے تحت اثاثہ جات کی انتظامی کمپنیوں کو براہ راست ای ٹی ایف متعارف کرانے کی اجازت ہوگی۔ اس اقدام سے سرمایہ کاروں کو بروکرز پر انحصار کرنے کے بجائے براہ راست کمپنیوں کے پلیٹ فارمز کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے کی سہولت ملے گی۔ اس سے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بڑھنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کی توقع ہے۔
اخراجات کے ڈھانچے کو معقول بنانے کے لیے ریونیو شیئرنگ کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے تحت انتظامی کمپنیاں اپنے ای ٹی ایف مینجمنٹ فیس کا ایک حصہ تقسیم کاری کی خدمات کے عوض بروکرز کے ساتھ شیئر کر سکیں گی۔ اس اقدام کا مقصد اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کو ہم آہنگ کرنا اور ای ٹی ایف کی رسائی کو وسیع کرنا ہے۔
کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ سیکیورٹیز بروکرز کو بھی ای ٹی ایف شروع کرنے اور ان کا انتظام سنبھالنے کی اجازت دی جائے۔ اس سے انتظامی ڈھانچے کی پیچیدگیوں میں کمی آئے گی اور مارکیٹ میں مصنوعات کا تنوع بڑھے گا۔
طویل مدتی سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے رضاکارانہ پنشن سسٹم میں انڈیکس ٹریکر فنڈز اور ای ٹی ایف جیسے غیر فعال سرمایہ کاری کے آپشنز کو شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
