-Advertisement-

یورپی یونین کا مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی پر زور

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ ارکان سے ملاقات، ریلوے کو مسافروں کی سہولیات بہتر بنانے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ریلویز کو مسافروں کی حفاظت، سفری سہولیات کی فراہمی اور فریٹ سروسز کو جدید...
-Advertisement-

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین نے کہا ہے کہ یورپی یونین مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے کوشاں ہے اور اس ضمن میں آبنائے ہرمز میں سمندری نقل و حمل کی بحالی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ بندی سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کا ایک موقع ہے جس میں ایران اور لبنان کے ساتھ جنگ بندی کو برقرار رکھنا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مشترکہ مقصد جنگ کا مستقل خاتمہ ہے جس میں آبنائے ہرمز میں بلا معاوضہ اور مکمل آزادی نقل و حمل کی بحالی شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی امن معاہدے میں ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی شامل کرنا ہوگا۔

وان ڈیر لین نے بتایا کہ یورپی یونین کے رہنماؤں نے مصر، لبنان، شام، اردن اور خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام لانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ تنازع کے معاشی اثرات خاص طور پر توانائی کی عالمی منڈیوں پر کئی ماہ یا برسوں تک برقرار رہ سکتے ہیں کیونکہ اہم تجارتی راستوں میں خلل سے عالمی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تنازع کے محض 60 دنوں میں یورپ کے جیواشم ایندھن کے درآمدی بل میں 27 ارب یورو سے زائد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ توانائی کی فراہمی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

یورپی کمیشن کی صدر نے زور دیا کہ یورپ کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر کے مقامی سطح پر سستی اور صاف ستھری توانائی کی پیداوار بڑھانا ہوگی جس میں قابل تجدید ذرائع اور جوہری توانائی کلیدی کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان ایندھن کے ذخائر اور گیس کی سٹوریج کے لیے بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن موسم گرما تک بجلی کے شعبے کے لیے ایک ایکشن پلان پیش کرے گا جس کا مقصد توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا اور معاشی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -