-Advertisement-

سپریم کورٹ: این اے 251 پر خوشحال خان کاکڑ کامیاب قرار، نتائج میں ردوبدل کا اعتراف

تازہ ترین

امریکہ میں 10 ملین ڈالر انعام یافتہ گواٹے مالا کا مطلوب منشیات فروش گرفتار

امریکی حکام نے گوئٹے مالا کے منشیات فروش گروہ کے ایک مبینہ سرغنہ کو گرفتار کر لیا ہے جس...
-Advertisement-

سپریم کورٹ نے حلقہ این اے 251 کے انتخابی تنازع پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن فوری جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اپنے مختصر حکم نامے میں بلوچستان الیکشن ٹریبونل کا 22 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کروانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی 18 فروری 2024 کو سید سمیع اللہ کی کامیابی کا جاری کردہ نوٹیفکیشن بھی غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا ہے۔

تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریٹرننگ آفیسر نے فارم 48 تیار کرتے وقت فارم 45 کے نتائج میں جان بوجھ کر اور غیر قانونی طور پر ردوبدل کیا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق ہر پولنگ اسٹیشن پر خوشحال خان کاکڑ کے 100 ووٹ کم کر کے مخالف امیدوار کو منتقل کیے گئے۔

فیصلے کے متن کے مطابق پولنگ اسٹیشن نمبر 343 پر خوشحال خان کاکڑ کے 100 ووٹ کم کیے گئے جبکہ مخالف امیدوار کے کھاتے میں 200 ووٹوں کا اضافہ کیا گیا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اگر فارم 45 کے نتائج میں چھیڑ چھاڑ نہ کی جاتی تو خوشحال خان کاکڑ 1863 ووٹوں کی واضح برتری سے کامیاب ہوتے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نتائج میں تبدیلی عوامی مینڈیٹ کو بدلنے کی ایک دانستہ کوشش تھی۔ ریٹرننگ آفیسر کے پاس فارم 45 کے نتائج تبدیل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانے کا آئینی پابند ہے اور ووٹوں میں ردوبدل عوامی رائے کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ انتخابی عملے کی جانب سے نتائج میں ہیر پھیر انتخابی قوانین کے تحت مجرمانہ کارروائی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سنایا جبکہ تفصیلی فیصلہ جسٹس عقیل احمد نے تحریر کیا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -