یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین روس کے اندر اپنے حملوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں پندرہ سو کلومیٹر سے زائد کی دوری پر واقع ایک ہدف کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
یوکرین کی سیکیورٹی سروس ایس بی یو نے تصدیق کی ہے کہ ان کے ڈرونز نے رات کے وقت روس کے شہر پرم کے قریب واقع ایک آئل پمپنگ اسٹیشن کو نشانہ بنایا جو یوکرین کی سرحد سے پندرہ سو کلومیٹر دور ہے۔ صدر زیلنسکی نے اس پیش رفت کو یوکرینی ہتھیاروں کے استعمال کا ایک نیا مرحلہ قرار دیا ہے جس کا مقصد روس کی جنگی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یوکرین نے روس کے اندر تیل کی ریفائنریز، ڈپوز اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کے عمل میں تیزی لائی ہے۔ منگل کے روز بحیرہ اسود کی بندرگاہ توآپسی میں واقع ایک آئل ریفائنری پر ڈرون حملے کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جو دو ہفتوں کے اندر اسی تنصیب پر تیسرا حملہ تھا۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ان کارروائیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے یوکرین کی جانب سے شہری اہداف کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ثبوت ہیں۔
یوکرین کی وزارت دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار بائیس میں روس کی جانب سے مکمل فوجی چڑھائی کے بعد سے یوکرین نے روس کے اندر اپنے حملوں کی رینج میں ایک سو ستر فیصد اضافہ کیا ہے۔ یوکرین نے اس دوران مقامی سطح پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کا وسیع ذخیرہ بھی تیار کر لیا ہے۔
صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ہر حملہ روس کی ملٹری انڈسٹری، لاجسٹکس اور تیل کی برآمدات کی صلاحیت کو کم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس سے قبل فروری میں بھی یوکرینی ڈرونز نے روسی علاقے کومی میں واقع اوختا ریفائنری کو نشانہ بنایا تھا جو یوکرینی سرحد سے سترہ سو پچاس کلومیٹر دور واقع ہے۔
