-Advertisement-

ایران کے خلاف امریکی جنگ پر اب تک 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، پینٹاگون

تازہ ترین

خلیجی ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں کی جانب سے پاسپورٹ سروسز معطل

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قائم پاکستانی سفارت خانوں نے تکنیکی خرابیوں کے باعث پاسپورٹ کے اجرا...
-Advertisement-

امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ پر اب تک پچیس ارب ڈالر کے اخراجات اٹھ چکے ہیں۔ پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بدھ کے روز کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے پہلی بار اس تنازع کے سرکاری مالیاتی تخمینے کا انکشاف کیا ہے۔

ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس کے دوران پینٹاگون کے کنٹرولر کے فرائض انجام دینے والے جولز ہرسٹ نے قانون سازوں کو بتایا کہ اس رقم کا زیادہ تر حصہ گولہ بارود کی خریداری میں صرف ہوا ہے۔ تاہم ہرسٹ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا اس تخمینے میں مشرق وسطیٰ میں تباہ ہونے والے فوجی اڈوں کی تعمیر نو اور مرمت کے اخراجات شامل ہیں یا نہیں۔

کمیٹی میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سرکردہ رکن ایڈم اسمتھ نے جواب میں کہا کہ وہ اس اعداد و شمار کے سامنے آنے پر خوش ہیں کیونکہ طویل عرصے سے اس کا مطالبہ کیا جا رہا تھا مگر کسی نے بھی یہ تعداد نہیں بتائی تھی۔

امریکا نے اٹھائیس فروری کو ایران کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا اور اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے۔ پینٹاگون نے اس تنازع کے دوران خطے میں ہزاروں اضافی فوجی تعینات کیے ہیں جن میں تین طیارہ بردار جہاز بھی شامل ہیں۔ اس جنگ میں اب تک تیرہ امریکی فوجی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ جنگ ایسے وقت میں جاری ہے جب امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں صرف چھ ماہ باقی ہیں۔ ریپبلکنز کو ایوان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ڈیموکریٹس اس غیر مقبول جنگ کو مہنگائی کے ساتھ جوڑ کر عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جنگ شروع ہونے کے بعد سے تیل اور گیس کی ترسیل میں تعطل نے امریکا میں پیٹرول اور زرعی مصنوعات بشمول کھاد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔ رائٹرز اور ایپوس کے حالیہ سروے کے مطابق ایران کے خلاف امریکی کارروائی کی حمایت کرنے والے شہریوں کی شرح گر کر چونتیس فیصد رہ گئی ہے جو مارچ میں اڑتیس فیصد تھی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -