اگرچہ امریکا کی بنیاد برطانوی بادشاہت کے خلاف بغاوت پر رکھی گئی تھی، تاہم دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ اس دوستی کے اظہار کے لیے سربراہانِ مملکت کے مابین تحائف کا تبادلہ دو صدیوں سے ایک روایت بن چکا ہے۔ ان تحائف میں سے کچھ انتہائی غیر معمولی رہے تو کچھ نے خاص اہمیت اختیار کر لی۔ منگل کے روز کنگ چارلس کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو برطانوی آبدوز ایچ ایم ایس ٹرمپ کی گھنٹی کا تحفہ اسی سفارتی روایت کا ایک نیا باب ہے۔
برطانیہ کی جانب سے امریکی صدور کو دیا گیا سب سے مشہور اور دیرپا تحفہ ریزولیٹ ڈیسک ہے۔ ملکہ وکٹوریہ کی جانب سے صدر ردرفورڈ بی ہیز کو دیا گیا یہ میز 1880 سے وائٹ ہاؤس کی زینت بنا ہوا ہے۔ یہ میز ایچ ایم ایس ریزولیٹ نامی برطانوی جہاز کی لکڑی سے تیار کیا گیا تھا، جو 1855 میں برف میں پھنس گیا تھا۔ اس میز کو لنڈن جانسن، رچرڈ نکسن اور جیرالڈ فورڈ کے علاوہ ہر امریکی صدر نے اپنے دفتری امور کے لیے استعمال کیا۔
سفارتی دوروں کے دوران تحائف کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ 2011 میں صدر اوباما نے ملکہ الزبتھ کو ایک آئی پوڈ تحفے میں دیا تھا، جبکہ اسی دورے میں اوباما جوڑے نے ملکہ کو ان کے والدین کے 1939 کے دورہ امریکا کی یادگار تصاویر پر مشتمل ایک البم پیش کیا۔ جواب میں ملکہ نے اوباما کو صدارتی خطوط کا ایک مجموعہ دیا، جس میں جان کوئنسی ایڈمز کا پرنسس وکٹوریہ کے نام 1834 کا خط بھی شامل تھا۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ برطانوی شاہی خاندان کے مداح سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پہلے دور صدارت میں برطانیہ کے تین دورے کیے اور اب دوسرے دور میں بھی ایک دورہ کر چکے ہیں۔ 2018 کے دورے کے دوران انہوں نے ملکہ الزبتھ کو پیتل سے بنا گھوڑے کا مجسمہ تحفے میں دیا تھا۔ اسی طرح ملکہ کمیلا نے بھی اپنے حالیہ دورہ امریکا کے دوران وہی بروچ پہنا جو 1957 میں ملکہ الزبتھ کو ان کے پہلے دورہ امریکا کے موقع پر پیش کیا گیا تھا۔
منگل کے روز کنگ چارلس کی جانب سے دیا گیا تحفہ یعنی ایچ ایم ایس ٹرمپ کی گھنٹی، دوسری جنگ عظیم کے دور کی ایک آبدوز سے منسوب ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس آبدوز کا نام کسی شخصیت سے نہیں بلکہ لفظ ٹرمپ سے لیا گیا تھا، کیونکہ اس دور میں ٹی کلاس کی تمام 53 آبدوزوں کے نام ٹی سے شروع ہوتے تھے۔ یہ آبدوز جنگ کے بعد تک برطانوی بحریہ کا حصہ رہی اور 1971 میں اسے ناکارہ قرار دے دیا گیا تھا۔
