ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے امریکی عدالت میں اعتراف کیا ہے کہ اوپن اے آئی کو فنڈز فراہم کرنا ان کی بڑی حماقت تھی۔ کیلیفورنیا کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں جاری مقدمے کی سماعت کے دوران مسک نے کہا کہ انہیں کمپنی کے سی ای او سیم آلٹمین کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اوپن اے آئی ایک غیر منافع بخش ادارہ رہے گا، تاہم بعد ازاں انہیں محسوس ہوا کہ کمپنی اپنے بانی اصولوں سے انحراف کر رہی ہے۔
ایلون مسک نے اپنے سول مقدمے میں موقف اختیار کیا ہے کہ سیم آلٹمین اور کمپنی کے صدر گریگ بروکمین نے انسانی فلاح کے وعدے کو پس پشت ڈال کر منافع کمانے کو ترجیح دی ہے، جس سے انہیں شدید مایوسی اور دھوکہ دہی کا احساس ہوا۔ مسک نے دسمبر 2015 سے مئی 2017 کے دوران اوپن اے آئی میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، جبکہ آج اس کمپنی کی مالیت 85 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
عدالت میں جرح کے دوران صورتحال اس وقت دلچسپ ہو گئی جب اوپن اے آئی کے وکیل ولیم ساویٹ نے مسک سے پیچیدہ سوالات کیے۔ مسک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے سوالات سادہ نہیں بلکہ مجھے الجھانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ اس پر جج یوون گونزالیز راجرز نے مداخلت کرتے ہوئے مسک کو براہِ راست جواب دینے کا کہا۔ سماعت کے دوران مسک نے انکشاف کیا کہ 2022 کے اواخر میں انہیں یقین ہو گیا تھا کہ کمپنی کے بانیان اپنے وعدوں سے پھر چکے ہیں۔
اوپن اے آئی کے وکلاء نے مسک کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی کی جانب سے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا گیا تھا کہ وہ ہمیشہ غیر منافع بخش رہے گی۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ مسک کا یہ قانونی اقدام دراصل ان کی اپنی کمپنی ایکس اے آئی کو فائدہ پہنچانے اور اوپن اے آئی کی ترقی کی رفتار کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
تقریباً چار ہفتے تک جاری رہنے والے اس مقدمے کے نتائج مصنوعی ذہانت کے شعبے میں طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں۔ ایلون مسک کی جانب سے دائر کردہ اس مقدمے کا مقصد سیم آلٹمین کو اوپن اے آئی کے بورڈ سے ہٹانا ہے۔ اگر عدالت کا فیصلہ مسک کے حق میں آتا ہے تو اس سے اوپن اے آئی کے انیشل پبلک آفرنگ کے منصوبے بھی کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں۔
