-Advertisement-

اسرائیل کی جانب سے غزہ جانے والے امدادی بحری جہازوں کو بین الاقوامی پانیوں میں روکنے کا دعویٰ

تازہ ترین

لیبیا کے ساحل پر کشتی ڈوبنے سے 17 تارکین وطن ہلاک، 9 لاپتہ

لیبیا کے ساحلی شہر طبرق کے قریب بحیرہ روم میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے سترہ افراد ہلاک...
-Advertisement-

اسرائیل نے بحیرہ روم میں یونان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری جہازوں کو روک لیا ہے، جس پر منتظمین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی جانب سے قانون شکنی میں اضافے کے مترادف قرار دیا ہے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کے مطابق بارسلونا سے بارہ اپریل کو روانہ ہونے والے ان امدادی جہازوں کو غزہ سے سینکڑوں میل دور قبضے میں لیا گیا ہے۔ منتظمین نے اس کارروائی کو بحری قریشی اور کھلے سمندر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اپنی سرحدوں سے دور بین الاقوامی پانیوں میں بھی اپنی من مانی کر رہا ہے۔

ترکیہ نے اسرائیل کی جانب سے امدادی قافلے کے خلاف کارروائی کو بحری قزاقی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ترک وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے مظلوم عوام کی مشکلات کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانے والے اس انسانی مشن کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کو پامال کیا ہے۔ انقرہ نے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف عالمی برادری سے متحد ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جہاز پر موجود اپنے شہریوں اور دیگر مسافروں کی بازیابی کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب ڈینی ڈینن نے دعویٰ کیا ہے کہ قافلے کو اسرائیلی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی روک دیا گیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے امدادی کارکنوں کو اشتعال انگیز قرار دیا۔

یاد رہے کہ اسی تنظیم کی جانب سے گزشتہ برس اکتوبر میں بھی امدادی قافلہ بھیجا گیا تھا جسے اسرائیلی فوج نے روک کر سویڈن کی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت ساڑھے چار سو سے زائد شرکاء کو گرفتار کر لیا تھا۔ اسرائیل غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل روکنے کے الزامات کو مسترد کرتا ہے، تاہم فلسطینی حکام اور عالمی امدادی ادارے اب بھی غزہ میں انسانی ضروریات کے مقابلے میں امداد کی فراہمی کو ناکافی قرار دیتے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -