-Advertisement-

ایران کشیدگی: برطانوی صنعتوں کو پیداواری لاگت میں اضافے اور ترسیل میں تاخیر کا سامنا

تازہ ترین

ایران اور بحیرہ احمر میں کشیدگی: عالمی تجارتی سمندری راستوں کی ازسرنو تشکیل

آبنائے ہرمز کی بندش اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کے باعث عالمی تجارتی راستے تبدیل ہو رہے ہیں جس...
-Advertisement-

برطانیہ میں مینوفیکچرنگ کے شعبے کو شدید بحران کا سامنا ہے جہاں اپریل کے دوران پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ اور ترسیل میں تاخیر 2022 کے وسط کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل کی جانب سے جاری کردہ سروے کے مطابق اس صورتحال کا بنیادی سبب آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ جاری تنازعہ ہے۔

برطانیہ کا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس مارچ کے 51.0 پوائنٹس سے بڑھ کر اپریل میں 53.7 تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ابتدائی تخمینے 53.6 سے معمولی زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ فروری کے اواخر میں شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد سے بین الاقوامی جہاز رانی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے جس سے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

یمن میں حوثی فورسز کے حملوں کے پیش نظر بحیرہ احمر اور نہر سویز کا راستہ چھوڑ کر جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔ ایس اینڈ پی کے مطابق آبنائے ہرمز پر عائد پابندیوں نے ترسیل کے وقت کو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ سروے کے مطابق مینوفیکچررز کی ان پٹ لاگت میں جون 2022 کے بعد سب سے تیز ترین اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر روب ڈوبسن کا کہنا ہے کہ پیداوار میں اضافہ جزوی طور پر اس لیے ہے کہ کلائنٹس متوقع مہنگائی اور سپلائی کے بحران سے بچنے کے لیے پیشگی خریداری کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سال کے آخر تک اس عمل کے تھم جانے اور کاروباری اعتماد میں کمی کے باعث شعبے کی نمو سست پڑ سکتی ہے جبکہ افراط زر کا دباؤ برقرار رہے گا۔

سروے میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کاروباری ادارے اپنی بڑھتی ہوئی لاگت کا بوجھ صارفین پر منتقل کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں فروخت کی اوسط قیمتوں میں نومبر 2022 کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ آئندہ بارہ ماہ کے لیے کاروباری اعتماد گزشتہ ایک سال کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ کا تنازعہ اور حکومتی پالیسیوں کے ممکنہ اثرات ہیں۔

تاہم اکتوبر 2024 کے بعد پہلی بار ملازمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، یہ پیشرفت وزیر خزانہ ریچل ریوز کی جانب سے اپنے پہلے بجٹ میں آجروں پر ٹیکسوں میں اضافے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -