-Advertisement-

پینٹاگون کا مصنوعی ذہانت فراہم کرنے والی بڑی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ

تازہ ترین

صدر ٹرمپ کا کیوبا کی حکومت اور اس کے ذیلی اداروں پر نئی پابندیوں کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کے ایگزیکٹو آرڈر پر...
-Advertisement-

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے مصنوعی ذہانت فراہم کرنے والی سات بڑی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کو حتمی شکل دے دی ہے جس کے تحت ان کمپنیوں کی جدید ٹیکنالوجی کو امریکی فوج کے خفیہ اور انتہائی خفیہ نیٹ ورکس میں استعمال کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد عسکری امور میں مصنوعی ذہانت کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہے۔

معاہدہ کرنے والی کمپنیوں میں اسپیس ایکس، اوپن اے آئی، گوگل، اینویڈیا، ریفلیکشن، مائیکروسافٹ اور ایمیزون ویب سروسز شامل ہیں۔ ان میں سے کئی کمپنیاں پہلے ہی پینٹاگون کے ساتھ کام کر رہی ہیں، تاہم اب انہیں حساس عسکری معاملات میں مزید رسائی حاصل ہوگی۔

اس فہرست میں اینتھروپک کمپنی شامل نہیں ہے۔ پینٹاگون اور اینتھروپک کے مابین فوجی مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ضوابط پر تنازعہ چل رہا ہے۔ رواں سال کے اوائل میں پینٹاگون نے اینتھروپک کو سپلائی چین کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے پینٹاگون اور اس کے ٹھیکیداروں کے لیے اس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی۔

معاہدے میں شامل ریفلیکشن اے آئی ایک نسبتاً کم معروف کمپنی ہے جس نے اکتوبر میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی تھی۔ اس کمپنی کو 1789 کیپیٹل کی حمایت حاصل ہے، جو کہ ایک وینچر کیپیٹل فرم ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اس فرم میں بطور پارٹنر اور سرمایہ کار شامل ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -