لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں جمعہ یکم مئی کو مزید 12 افراد جاں بحق ہو گئے۔ وزارت صحت کے مطابق حبوش کے علاقے میں ہونے والے حملے میں ایک بچے اور دو خواتین سمیت 8 افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 21 زخمی ہوئے۔ زراریہ میں ہونے والی بمباری سے چار افراد جان کی بازی ہار گئے جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج نے حبوش کے رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ جاری کی تھی، تاہم سرکاری خبر رساں ادارے این این اے کے مطابق وارننگ کے ایک گھنٹے کے اندر ہی شدید فضائی حملے کیے گئے۔ اسرائیلی فوج کا موقف ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد کارروائی کی جا رہی ہے۔
جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان کے ساحلی شہر صور سمیت دیگر مقامات پر بھی اسرائیلی توپ خانے اور جنگی طیاروں کی کارروائیاں جاری ہیں۔ عینی شاہدین اور سرکاری ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوجی لبنان کی سرحد کے اندر دس کلومیٹر تک کے علاقے میں بڑی تعداد میں عمارتوں کو دھماکوں سے اڑا رہے ہیں۔ شماع اور یارون کے قصبوں میں گھروں، دکانوں، راستوں کے علاوہ ایک اسکول اور خانقاہ کو بھی مسمار کیا گیا ہے۔
حزب اللہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کا ردعمل ہیں۔ مارچ سے اب تک جاری ان حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2600 سے تجاوز کر چکی ہے جن میں 103 طبی امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کراس سوسائٹیز کے انڈر سیکرٹری جنرل زیویئر کاسٹیلانو نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانیں بچانے والے رضاکاروں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طبی عملہ ہر وقت اپنی زندگی کے تحفظ کے خوف میں مبتلا رہتا ہے۔
