اسپرٹ ایئر لائنز نے ہفتے کے روز باضابطہ طور پر اپنے آپریشنز معطل کر دیے ہیں۔ ایران جنگ کے نتیجے میں جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں دگنا اضافے کے بعد دیوالیہ ہونے والی یہ پہلی بڑی فضائی کمپنی ہے۔ اس بندش کے باعث ہزاروں ملازمین بے روزگار ہو گئے ہیں۔
یہ پیش رفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جنہوں نے کمپنی کو بچانے کے لیے 500 ملین ڈالر کی امداد کی تجویز دی تھی۔ اس تجویز کی ان کے قریبی مشیروں اور کانگریس میں موجود ریپبلکن ارکان کی جانب سے مخالفت کی گئی تھی۔
اسپرٹ ایئر لائنز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے اور کاروباری دباؤ کے باعث مالی حالات شدید متاثر ہوئے، جس کے بعد کمپنی کو اپنے آپریشنز سمیٹنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔
صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے اسپرٹ ایئر لائنز اور اس کے قرض دہندگان کو حتمی ریسکیو تجویز پیش کی تھی، تاہم 500 ملین ڈالر کے مالیاتی پیکیج پر بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ایک اچھا سودا ہوتا تو ہم اسے ضرور کرتے، لیکن ہمیں اپنے مفادات کو ترجیح دینی ہے۔
امریکی وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے بتایا کہ انہوں نے دیگر فضائی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ اسپرٹ ایئر لائنز کو خرید لیں، لیکن کوئی بھی خریدار سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی اور اسے خریدنے کو تیار نہیں تو حکومت ایسا کیوں کرے۔
کمپنی سے منسلک ایک قرض دہندہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسپرٹ کو بچانے کی غیر معمولی کوشش کی، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ مردہ جسم میں جان نہیں ڈالی جا سکتی۔ کمپنی کو اب اپنے ملازمین اور صارفین کے مفاد میں واضح اعلان کرنا چاہیے۔
اس بحران کی بنیادی وجہ جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہے۔ کمپنی نے اپنی ری اسٹرکچرنگ پلان میں ایندھن کی قیمت 2.24 ڈالر فی گیلن فرض کی تھی، جبکہ اپریل کے اختتام تک یہ قیمت 4.51 ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔
اسپرٹ ایئر لائنز کی بندش کے بعد جمعہ کو کمپنی کے حصص میں 25 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی، جبکہ حریف کمپنیوں فرنٹیئر ایئر لائنز اور جیٹ بلیو ایئرویز کے حصص میں بالترتیب 10 اور 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق یکم مئی سے 15 مئی کے درمیان اسپرٹ ایئر لائنز کی 4 ہزار 119 پروازیں شیڈول تھیں، جن میں 8 لاکھ سے زائد مسافروں کی گنجائش موجود تھی۔ گزشتہ دو دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر کسی امریکی فضائی کمپنی کو دیوالیہ ہونے کے بعد مکمل طور پر بند کرنا پڑا ہے۔
