میکسیکو کی ریاست سینالووا کے گورنر روبن روچا مویا نے منشیات کی اسمگلنگ کے سنگین الزامات کے بعد اپنے عہدے سے عارضی طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے رواں ہفتے روچا مویا سمیت نو افراد پر بدنام زمانہ سینالووا کارٹیل کے ساتھ مل کر امریکہ میں منشیات کی بڑی مقدار تقسیم کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
روبن روچا مویا، جن کا تعلق میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام کی مورینا پارٹی سے ہے، نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔ انہوں نے جمعہ کی رات ایک ویڈیو پیغام میں تصدیق کی کہ انہوں نے ریاستی کانگریس کو اپنی عارضی رخصت کی درخواست جمع کرا دی ہے تاکہ تحقیقات میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
امریکی فرد جرم میں جن نو افراد کو نامزد کیا گیا ہے ان میں سے کم از کم تین کا تعلق حکمران جماعت مورینا سے ہے۔ ان الزامات میں منشیات کی درآمد کی سازش، خودکار ہتھیاروں اور تباہ کن آلات کا غیر قانونی قبضہ شامل ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں گورنر کو عمر قید یا کم از کم چالیس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کسی بھی عہدیدار کو امریکہ کے حوالے تب ہی کرے گی جب ٹھوس ثبوت فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی موجودہ گورنر یا اعلیٰ سرکاری عہدیدار پر منشیات فروشی کے عوامی الزامات عائد کیے ہیں۔
اس معاملے کے ساتھ ہی سینالووا کے دارالحکومت کولیاکان کے میئر جوان ڈی ڈیوس گیمز نے بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان دونوں عہدیداروں کے مستعفی ہونے کے بعد اب انہیں حاصل استثنیٰ ختم ہو گیا ہے جس کے بعد ان کے خلاف باقاعدہ تفتیش کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور میکسیکو کے سفارتی تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے سینالووا کارٹیل کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور میکسیکو پر منشیات کے گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ سابق صدر اینڈریس مینوئل لوپیز اوبراڈور کے قریبی ساتھی مانے جانے والے روچا مویا 2021 سے سینالووا کے گورنر کے عہدے پر فائز تھے۔
