-Advertisement-

ایرانی حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں 16 امریکی فوجی تنصیبات کو شدید نقصان، رپورٹ کا دعویٰ

تازہ ترین

مظفرآباد: دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ، ایس ڈی ایم اے کی جانب سے الرٹ جاری

ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مظفرآباد میں دریائی بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر سیلابی خطرے کی...
-Advertisement-

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے آٹھ مختلف ممالک میں امریکی فوج کے کم از کم سولہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی تنصیبات ناقابل استعمال ہو چکی ہیں۔ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف سیٹلائٹ تصاویر اور امریکی و خلیجی عرب ممالک کے ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ متاثرہ مقامات خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کی بڑی تعداد پر مشتمل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے نقصان کا تخمینہ مختلف نوعیت کا لگایا جا رہا ہے۔ کچھ حکام کا ماننا ہے کہ سہولیات مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور انہیں بند کرنا پڑے گا، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ ان تنصیبات کی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر ان کی مرمت کرنا ضروری ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کے بنیادی اہداف میں جدید ریڈار سسٹمز، مواصلاتی نظام اور طیارے شامل تھے۔ ان میں سے کئی اثاثے انتہائی مہنگے اور متبادل کے حصول میں مشکل ہیں۔ ایک ذریعے نے نشاندہی کی کہ ایران نے دانستہ طور پر ان تنصیبات کو ہدف بنایا جو سب سے زیادہ لاگت والی تھیں، کیونکہ ریڈار سسٹمز خطے میں امریکہ کے سب سے مہنگے اور محدود وسائل ہیں۔

پینٹاگون کے کمپٹرولر جولز جے ہرسٹ تھرڈ نے بدھ کے روز قانون سازوں کو بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ پر اب تک امریکہ کو تقریباً پچیس ارب ڈالر کا خرچ اٹھانا پڑا ہے۔ تاہم، بعد ازاں ایک ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ حقیقی اعداد و شمار چالیس سے پچاس ارب ڈالر کے قریب ہونے کا امکان ہے۔

فی الحال یہ جنگ رکی ہوئی ہے اور اسے مستقل طور پر ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ ایران اس قسم کا معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -