امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو رواں ہفتے روم اور ویٹیکن کا دورہ کریں گے۔ اطالوی حکومتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پوپ لیو کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ کیتھولک عقیدے کے پیروکار مارکو روبیو اپنے دورے کے دوران ویٹیکن کے سیکریٹری آف اسٹیٹ پیٹرو پارولین اور اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی سے ملاقات کریں گے۔ اطالوی میڈیا کے مطابق ان کی وزیر دفاع گائیڈو کروسیٹو سے بھی ملاقات متوقع ہے جو جمعرات اور جمعہ کے روز شیڈول ہے۔
سفارتی ماہرین اس دورے کو واشنگٹن اور ویٹیکن کے درمیان برف پگھلانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو کے جنگ مخالف بیانات پر شدید تنقید کی ہے۔ پوپ لیو نے آٹھ مئی ۲۰۲۵ کو منصب سنبھالنے کے بعد سے تارکین وطن کے خلاف امریکی انتظامیہ کے کریک ڈاؤن پر تنقید کی تھی تاہم ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد پوپ کے جنگ مخالف بیانات نے صدر ٹرمپ کو برہم کر دیا۔
پوپ لیو نے سات اپریل کو ایران کو تباہ کرنے کی امریکی دھمکی کو ناقابل قبول قرار دیا تھا جس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پوپ کو خارجہ پالیسی کے حوالے سے کمزور اور غیر موزوں قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ پوپ لیو کے حامی نہیں ہیں کیونکہ وہ ایران کے جوہری ہتھیار رکھنے کے معاملے پر نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
اس تنازع میں اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی جانب سے پوپ کا دفاع کرنے پر صدر ٹرمپ نے ان پر بھی شدید تنقید کی۔ امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں میلونی کے حوالے سے کہا کہ انہیں ان سے ایسی توقع نہیں تھی اور وہ سمجھ رہے تھے کہ اطالوی وزیر اعظم میں ہمت ہے لیکن وہ غلط ثابت ہوئے۔ صدر ٹرمپ نے نیٹو کے معاملے پر بھی تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اٹلی سے امریکی افواج کے انخلا کی دھمکی دی ہے۔ اس سے قبل پینٹاگون نے جرمنی سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان بھی کیا ہے۔
