-Advertisement-

عالمی ایندھن بحران سے بچنے کے لیے نیپال میں الیکٹرک گاڑیوں کا رجحان بڑھ گیا

تازہ ترین

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود اوپیک پلس کا تیل کی پیداوار میں اضافے کا فیصلہ

اوپیک پلس نے جون کے مہینے کے لیے تیل کی پیداوار میں معمولی اضافے پر اتفاق کر لیا ہے...
-Advertisement-

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی منڈیوں میں عدم استحکام کے باوجود نیپال میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ متبادل توانائی کے ماہر گووند راج پوکھریل کے مطابق نیپال کی سڑکوں پر الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بحران سے بچاؤ کی بڑی وجہ ہے۔

چٹون ڈسٹرکٹ اور کھٹمنڈو کے درمیان چلنے والے 18 نشستوں والی چینی ساختہ ای-وین کے ڈرائیور پروشوتم ادھیکاری کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود ان کا کاروبار متاثر نہیں ہوا بلکہ ان کی گاڑی میں سفر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایک طرفہ سفر کا کرایہ 700 روپے ہے جبکہ گاڑی چارج کرنے پر صرف 8 ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے برعکس ڈیزل والی گاڑی کا خرچ 66 ڈالر سے زائد بنتا ہے۔

نیپال میں 3 کروڑ کی آبادی کے درمیان تقریباً 50 ہزار الیکٹرک گاڑیاں موجود ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 کے وسط سے 2025 کے وسط تک نیپال نے 13 ہزار 500 سے زائد الیکٹرک گاڑیاں درآمد کیں، جو پیٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں دوگنا ہیں۔ حکام کا اندازہ ہے کہ شہر میں داخل ہونے والی 60 فیصد مائیکرو بسیں اب بجلی سے چلتی ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں ماحول دوست، آرام دہ اور سستی ہیں۔ حکومت اپنی کلین انرجی پالیسی کے تحت کرپشن مخالف مظاہروں کے دوران تباہ ہونے والی 10 ہزار گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑیوں سے تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

گاڑیوں کے ڈیلرز کے لیے بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ وینچر موٹرز کی کسٹمر ریلیشن آفیسر رتیما پانڈے کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد لوگ بڑی تعداد میں اپنی ایندھن والی گاڑیاں دے کر الیکٹرک گاڑیاں خرید رہے ہیں۔

حکومت نے اپریل میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کو الیکٹرک میں تبدیل کرنے یعنی ریٹروفٹنگ کے لیے قانونی فریم ورک کی منظوری بھی دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نیپال اپنی مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور اسمبلی پر توجہ دے تو یہ ملک کے لیے طویل مدتی حل ثابت ہو سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -