نوبل انعام یافتہ قیدی نرگس محمدی کی طبیعت تشویشناک حد تک بگڑ گئی ہے، جس کے بعد انہیں ایران کے شمال مغربی شہر زنجان کے ایک ہسپتال کے کارڈیک کیئر یونٹ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کے اہل خانہ کی جانب سے قائم فاؤنڈیشن کے مطابق، نرگس محمدی کو جمعہ کے روز جیل سے ہسپتال لایا گیا تھا۔
فاؤنڈیشن کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ نرگس محمدی کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک غیر مستحکم ہے اور فی الحال ان کا علاج صرف آکسیجن تھراپی کے ذریعے کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی حالت کو کسی حد تک سنبھالا جا سکے۔
ان کی صحت میں انتہائی تیزی سے بگاڑ پیدا ہوا ہے جس کے دوران وہ دو مرتبہ بے ہوش ہوئیں اور انہیں دل کا شدید دورہ پڑا۔ پچاس برس سے زائد عمر کی نرگس محمدی نے ایران میں خواتین کے حقوق اور سزائے موت کے خاتمے کے لیے مہم چلائی تھی، جس کے اعتراف میں انہیں جیل میں قید کے دوران نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ اس سے قبل مارچ کے آخر میں بھی انہیں دل کا دورہ پڑنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ نرگس محمدی کی صحت کی بحالی تب ہی ممکن ہے جب انہیں تہران میں موجود ان کی ذاتی طبی ٹیم کے پاس منتقل کیا جائے۔
فروری میں جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق نرگس محمدی کو ساڑھے سات سال قید کی نئی سزا سنائی گئی تھی۔ نوبل کمیٹی نے تہران حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
نرگس محمدی کو دسمبر میں وکیل خسرو الکردی کی موت کے بعد ہونے والی تقریب میں اشتعال انگیز بیانات دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت پراسیکیوٹر حسن ہمتی فار نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے یادگاری تقریب کے دوران متنازع گفتگو کی تھی۔
