لاہور ہائی کورٹ نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر ہتک عزت کے مقدمے میں گلوکارہ میشا شفیع پر عائد پانچ ملین روپے کے ہرجانے کی سزا کو مشروط طور پر معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے میشا شفیع کو حکم دیا ہے کہ وہ ہرجانے کی نصف رقم عدالت میں جمع کروائیں اور باقی رقم کے لیے ضمانتی مچلکے جمع کرائے جائیں۔
جسٹس احمد ندیم ارشد نے میشا شفیع کی اپیل پر سماعت کی۔ اس موقع پر میشا شفیع کے وکیل ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو مکمل طور پر معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔
جسٹس احمد ندیم ارشد نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ نے میشا شفیع کو جنسی ہراسانی کے الزامات دہرانے سے منع کیا تھا اور فیصلے کے اس حصے کو معطل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی کو بھی اس طرح کے الزامات لگانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت عالیہ نے علی ظفر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ سیشن کورٹ نے اپنے فیصلے میں میشا شفیع کو علی ظفر کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرنے پر پانچ ملین روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف گلوکارہ نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔
