بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں انتخابی شکست کے باوجود وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ہے، جس سے خطے کی سیاست میں ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے پیر کے روز ہونے والی ووٹوں کی گنتی کے بعد 294 نشستوں میں سے دو تہائی سے زائد پر کامیابی حاصل کر کے ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس کا 2011 سے جاری اقتدار ختم کر دیا ہے۔
ریاست میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد 215 سے کم ہو کر 80 رہ گئی ہے اور خود ممتا بنرجی بھی اپنی نشست ہار گئی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی یہ جیت سیاسی اعتبار سے ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے کیونکہ مشرقی بھارت کی اس گنجان آباد ریاست میں بی جے پی اس سے قبل کبھی برسر اقتدار نہیں رہی تھی۔
ممتا بنرجی نے پریس بریفنگ کے دوران الزامات عائد کیے کہ الیکشن کمیشن جانبدار رہا اور ان کی جماعت کی تقریباً 100 نشستیں زبردستی چھینی گئی ہیں۔ انہوں نے کسی ثبوت کی فراہمی کے بغیر کہا کہ وہ اخلاقی طور پر نہیں ہاریں اور سرکاری طور پر الیکشن کمیشن کے ذریعے ہونے والی اس شکست کو تسلیم نہیں کرتیں، اس لیے وہ استعفیٰ نہیں دیں گی۔
مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ بی جے پی کے رہنما سویندو ادھیکاری، جنہوں نے ممتا بنرجی کو شکست دی، کا کہنا ہے کہ تمام تر طریقہ کار آئین کے مطابق مکمل کیا گیا ہے۔
بھارتی آئین کے تحت ریاست کے گورنر وزیراعلیٰ سے استعفیٰ طلب کر سکتے ہیں یا پھر ان کی مدت پوری ہونے کا انتظار کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد نئے منتخب قانون سازوں کی حلف برداری اور حکومت سازی کا عمل شروع ہوگا۔ ممتا بنرجی کی مدت کار جمعرات کو ختم ہو رہی ہے۔
اگرچہ شکست خوردہ امیدوار انتخابی نتائج کو بدعنوانی یا قوانین کی خلاف ورزی کی بنیاد پر عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں، تاہم ممتا بنرجی نے تاحال اس بارے میں کوئی واضح اعلان نہیں کیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور دیگر اعلیٰ قیادت نے اس انتخابی مہم کے دوران بنگلہ دیش سے غیر قانونی تارکین وطن اور مقامی معیشت کی کمزوری کو اہم موضوع بنایا تھا۔
