-Advertisement-

متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کی وائرل ویڈیو پرانی اور بے بنیاد نکلی

تازہ ترین

متحدہ عرب امارات کا ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ

دبئی میں متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ ان کے فضائی...
-Advertisement-

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر چار مئی دو ہزار چھبیس سے ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے متحدہ عرب امارات کے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو مارچ دو ہزار چھبیس کے ایک واقعے کی ہے اور اس کا موجودہ حالات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اٹھائیس فروری کو ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جبکہ امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دو ہفتوں کی جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کے باوجود معاشی بحران اور تنازع بدستور جاری ہے۔

چار مئی کو متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا کہ اس کے فجیرہ انرجی ہب پر ایرانی حملے میں تین ہندوستانی شہری زخمی ہوئے ہیں۔ اسی روز ابوظہبی کی سرکاری آئل کمپنی ایڈنوک نے الزام عائد کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے اس کے ایک خالی خام تیل کے ٹینکر کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

وائرل ہونے والی ویڈیو کو مختلف اکاؤنٹس سے شیئر کیا گیا جن میں سے کچھ ایران نواز سمجھے جاتے ہیں۔ ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ ایران نے متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا آئل ٹینکر تباہ کر دیا ہے، جسے ایک لاکھ چالیس ہزار بار دیکھا گیا۔ دیگر اکاؤنٹس نے بھی اسی ویڈیو کو مختلف دعووں کے ساتھ شیئر کیا، جس سے مجموعی طور پر لاکھوں ویوز حاصل ہوئے۔

حقائق کی جانچ پڑتال کے دوران سامنے آیا کہ یہ ویڈیو بارہ مارچ دو ہزار چھبیس کو اے بی سی نیوز پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔ یہ واقعہ عراق کی بندرگاہ ام القصر کے قریب پیش آیا تھا جہاں دو غیر ملکی آئل ٹینکرز کو دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے کی تصدیق بی بی سی، دی گارڈین اور الجزیرہ سمیت متعدد عالمی نشریاتی اداروں نے بھی مارچ میں کی تھی۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق وائرل ویڈیو کا متحدہ عرب امارات کے حالیہ واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یہ فیکٹ چیک آئی ویریفائی پاکستان کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جو سی ای جے آئی بی اے اور یو این ڈی پی کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -