امریکی فوج نے مشرقی بحر الکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شبے میں ایک کشتی کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
امریکی سدرن کمانڈ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ کمانڈر جنرل فرانسس ایل ڈونوون کے حکم پر مہلک فضائی حملہ کیا گیا۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ کشتی دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال تھی اور منشیات کی اسمگلنگ میں مصروف تھی تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔ فوج کی جانب سے اس کارروائی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔
یہ کارروائی کیریبین سمندر میں ایک مشتبہ کشتی پر کیے گئے حملے کے ایک روز بعد ہوئی ہے جس میں دو افراد مارے گئے تھے۔ پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے اوائل سے لاطینی امریکہ کے پانیوں میں امریکی فورسز کی جانب سے منشیات اسمگلروں کے خلاف جاری مہم کے دوران اب تک کم از کم ایک سو نوے افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حالیہ ہفتوں کے دوران ان حملوں میں تیزی دیکھی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ مغربی نصف کرہ میں نام نہاد نارکو ٹیررازم کے خاتمے کے لیے جارحانہ پالیسی پر کاربند ہے۔ تاہم امریکی فوج نے تاحال اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ نشانہ بننے والی کشتیاں واقعی منشیات لے جا رہی تھیں۔
صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ امریکہ لاطینی امریکہ میں کارٹیلز کے خلاف مسلح تنازع میں مصروف ہے اور یہ حملے امریکہ میں منشیات کی ترسیل روکنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ دوسری جانب ناقدین ان فوجی کارروائیوں کی قانونی حیثیت پر مسلسل سوالات اٹھا رہے ہیں۔
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب خطے میں امریکی فوجی موجودگی کئی دہائیوں میں اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ اس سے قبل جنوری میں ایک آپریشن کے دوران سابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لیا گیا تھا جن پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں تاہم انہوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
