-Advertisement-

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش: ایران کے ساتھ کشیدگی محرک ہونے کا انکشاف

تازہ ترین

عورت مارچ کے شرکاء پر تشدد: سندھ حکومت نے تین پولیس افسران کو معطل کر دیا

حکومت سندھ نے کراچی پریس کلب کے باہر عورت مارچ کی منتظمین اور شرکاء کے ساتھ بدسلوکی اور گرفتاری...
-Advertisement-

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ایک خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اہم ارکان پر قاتلانہ حملے کی کوشش کے پیچھے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی ایک ممکنہ محرک ہو سکتی ہے۔ یہ رپورٹ 27 اپریل کو جاری کی گئی جس میں ملزم کول ایلن کے مقاصد کا ابتدائی جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملزم کول ایلن متعدد سماجی اور سیاسی شکایات رکھتا تھا اور ایران کے ساتھ تنازعہ اس کے حملے کے فیصلے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ حکام نے اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے ملزم کی سوشل میڈیا پوسٹس کا سہارا لیا ہے جن میں اس نے ایران کے خلاف امریکی اقدامات پر کڑی تنقید کی تھی۔ یہ حملہ 25 اپریل کو وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر کے موقع پر ناکام بنایا گیا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف نے منگل کے روز ملزم پر ایک وفاقی افسر پر حملے کی نئی فرد جرم عائد کی ہے۔ اس سے قبل اس پر قاتلانہ حملے کی کوشش، تشدد کے دوران آتشیں اسلحہ کا استعمال اور ریاستوں کے درمیان غیر قانونی طور پر اسلحہ و گولہ بارود منتقل کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ ملزم کی جانب سے تاحال کوئی صفائی پیش نہیں کی گئی ہے۔

تفتیشی حکام نے ملزم کی جانب سے حملے کی رات اپنے رشتہ داروں کو بھیجے گئے ایک ای میل پیغام کو بھی اہم ثبوت قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ پیغام ایک منشور کی حیثیت رکھتا ہے جس میں موجودہ انتظامیہ کے خلاف غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس پیغام میں ٹرمپ کا نام لیے بغیر ایک غدار کو نشانہ بنانے کی خواہش کا ذکر موجود ہے۔

ایف بی آئی ملزم کی ڈیجیٹل سرگرمیوں اور سوشل میڈیا پوسٹس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ ان پوسٹس میں جہاں ایران کے معاملے پر تنقید شامل ہے، وہیں تارکین وطن کی پالیسیوں، ایلون مسک اور روس یوکرین جنگ کے حوالے سے بھی سخت موقف اختیار کیا گیا ہے۔ ایک پوسٹ میں تو ٹرمپ کو ایرانی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی پر مواخذے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس تفتیش کا مقصد حملے کے محرکات کو واضح کرنا ہے تاکہ اس واقعے کے گرد سازشی نظریات کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اس سے قبل پنسلوانیا میں ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران ہونے والی فائرنگ کے بعد بھی اسی طرح کی قیاس آرائیاں سامنے آئی تھیں جنہیں روکنے کے لیے اب سخت تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -