-Advertisement-

اقوام متحدہ میں ایران مخالف امریکی قرارداد: چین اور روس کی جانب سے ویٹو کا امکان

تازہ ترین

ایل نینو کے خدشات: سمندری درجہ حرارت ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ گیا

یورپی یونین کے موسمیاتی ادارے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس نے انتباہ جاری کیا ہے کہ سمندری سطح کے درجہ...
-Advertisement-

امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک نئی قرارداد پیش کی ہے جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں حملے اور بارودی سرنگیں بچھانے کا عمل فوری طور پر بند کرے۔ تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ روس اور چین کی جانب سے اس قرارداد کو ویٹو کیے جانے کا قوی امکان ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اگلے ہفتے چین کا دورہ متوقع ہے، جس میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی سر فہرست ہوگی۔ ایسے میں چین کا ویٹو کا استعمال سفارتی طور پر پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی امریکا کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد، جس میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دی تھی، روس اور چین کے ویٹو کے باعث ناکام ہو گئی تھی۔

اقوام متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والٹز نے خلیجی ممالک کے سفیروں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک اس قرارداد کی مخالفت کریں گے وہ ایک انتہائی خطرناک مثال قائم کریں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی ملک اتنی سادہ سی تجویز کی مخالفت کرتا ہے تو کیا وہ واقعی امن کا خواہاں ہے؟

اس مسودے کو امریکا اور بحرین نے تیار کیا ہے، جسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کی حمایت حاصل ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے قرارداد کو یکطرفہ اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو بحری سلامتی کا علمبردار بننے کا کوئی اخلاقی یا قانونی حق حاصل نہیں ہے۔

سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں روس اور چین نے اس مسودے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سفارت کاروں کے مطابق چین کا موقف ہے کہ قرارداد کا متن متعصبانہ ہے، خاص طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ہفتم کا حوالہ دینا، جو سلامتی کونسل کو پابندیوں سے لے کر فوجی کارروائی تک کے اختیارات دیتا ہے، تشویشناک ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران ایک عارضی جنگ بندی کے معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ تہران اس وقت ایک ایسے مسودے کا جائزہ لے رہا ہے جو لڑائی کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، اگرچہ بنیادی تنازعات بدستور حل طلب رہیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز کہا تھا کہ یہ قرارداد اقوام متحدہ کی افادیت کا امتحان ہے اور انہوں نے روس و چین پر زور دیا کہ وہ اس کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ بحرین کے مندوب جمال فارس الرویعی کا کہنا ہے کہ وہ حتمی متن کی منظوری کے لیے کونسل کے تمام ارکان کے ساتھ تعمیری انداز میں کام کرنے کے خواہاں ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -