یورپی یونین کے موسمیاتی ادارے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس نے انتباہ جاری کیا ہے کہ سمندری سطح کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو ریکارڈ بلندیوں کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ایل نینو نامی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی جانب منتقلی کا شاخسانہ ہے جو آنے والے مہینوں میں عالمی سطح پر شدید موسمی حالات کا باعث بن سکتی ہے۔
یورپی سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹ کی ماہر سمانتھا برجس نے بتایا ہے کہ حالیہ دنوں میں سمندری درجہ حرارت 2024 کے ریکارڈ کے قریب رہا ہے اور خدشہ ہے کہ مئی کا مہینہ اپنے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دے گا۔ کوپرنیکس کے مطابق اپریل کے دوران سمندری سطح کا درجہ حرارت تاریخ میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ رہا جبکہ بحر الکاہل اور امریکہ کے درمیانی سمندری حدود میں میرین ہیٹ ویوز نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کا کہنا ہے کہ ایل نینو کے حالات مئی سے جولائی کے درمیان تشکیل پا سکتے ہیں۔ یہ قدرتی موسمیاتی عمل نہ صرف عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں خشک سالی اور شدید بارشوں جیسے موسمیاتی تغیرات کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جیواشم ایندھن کے استعمال سے پہلے ہی گرم ہونے والے کرہ ارض پر ایل نینو کے اثرات مزید تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
برکلے ارتھ کے سائنسدان زیک ہاؤس فادر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ایل نینو کی شدت زیادہ رہی تو 2027 تاریخ کا گرم ترین سال ثابت ہو سکتا ہے۔ سمانتھا برجس نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ایل نینو کی حتمی شدت کا تعین کرنا ابھی قبل از وقت ہے لیکن اس کے اثرات سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سمندر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی 90 فیصد اضافی حرارت جذب کر رہے ہیں جس کے باعث موسمیاتی انتہا پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کوپرنیکس کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ بلیٹن کے مطابق اپریل کا مہینہ عالمی سطح پر تیسرا گرم ترین مہینہ رہا جو صنعتی دور سے قبل کے مقابلے میں 1.43 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آرکٹک میں سمندری برف کی مقدار ریکارڈ نچلی سطح کے قریب ہے جبکہ یورپ میں خشک سالی اور جنگلات میں آگ لگنے جیسے واقعات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہر گزرتے مہینے کے اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں۔
