-Advertisement-

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا جنگی حکمت عملی اور واشنگٹن سے مذاکرات میں اہم کردار

تازہ ترین

پاکستان اور بنگلہ دیش کا منشیات سمگلنگ اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تاریخی معاہدہ

پاکستان اور بنگلہ دیش نے منشیات کی سمگلنگ، سائبر کرائم، دہشت گردی اور انسانی سمگلنگ کے خلاف باہمی تعاون...
-Advertisement-

امریکی انٹیلی جنس اداروں کا ماننا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جنگ کے دوران منظر عام سے غائب رہنے کے باوجود تہران کی جنگی حکمت عملی اور واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ سی این این کی جمعہ کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو جنگ کے دوران زخم آئے تھے تاہم وہ اس کے باوجود پس پردہ متحرک رہے۔

امریکی حکام کو شبہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد اور دیگر اعلیٰ حکام کی ہلاکت کے بعد ایرانی قیادت کے ڈھانچے میں اپنے اختیارات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باوجود اعتماد کے حامل قاصدوں اور ذاتی رابطوں کے ذریعے احکامات جاری رکھے۔ ان اطلاعات کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای جھلسنے اور شیل کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہوئے تھے جن سے وہ تاحال صحت یاب ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے سپریم لیڈر کی صحت سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ سپریم لیڈر کے دفتر کے سربراہ برائے پروٹوکول مظاہر حسینی نے جمعہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت میں بہتری آ رہی ہے اور ان کی صحت کے بارے میں پھیلائی جانے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

امریکی انٹیلی جنس کے جائزے کے مطابق امریکی حملوں نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچایا ہے تاہم انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا کیونکہ ایران کے کئی میزائل لانچرز اب بھی فعال ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کے درمیان حکومت کے روزمرہ کے امور کی نگرانی میں پاسداران انقلاب کے اعلیٰ ارکان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -