-Advertisement-

خلیج میں کشیدگی برقرار: امریکا اور ایران کے مابین جنگ بندی کے امکانات معدوم

تازہ ترین

پاکستان اور بنگلہ دیش کا منشیات سمگلنگ اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تاریخی معاہدہ

پاکستان اور بنگلہ دیش نے منشیات کی سمگلنگ، سائبر کرائم، دہشت گردی اور انسانی سمگلنگ کے خلاف باہمی تعاون...
-Advertisement-

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کوئی کمی نہ آ سکی، خلیج میں عارضی جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کے ایک تجزیے کے مطابق تہران کئی ماہ تک بحری ناکہ بندی کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آبنائے ہرمز اور اس کے گردونواح میں گزشتہ چند روز کے دوران لڑائی میں تیزی دیکھی گئی ہے، جبکہ جمعہ کے روز متحدہ عرب امارات پر بھی دوبارہ حملے کیے گئے۔ واشنگٹن تہران کی جانب سے اس امریکی تجویز کے جواب کا منتظر ہے جس کا مقصد جوہری پروگرام سمیت دیگر متنازع امور پر بات چیت سے قبل جنگ کا باضابطہ خاتمہ کرنا ہے۔

روم میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ کو جمعہ کے روز جواب متوقع تھا، تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تہران ابھی تک اپنے ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز اور امریکی بحری جہازوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہیں۔

امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دو ایرانی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد وہ واپس مڑ گئے۔ ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صورتحال پرسکون ہے مگر مزید جھڑپوں کا امکان موجود ہے۔

سی آئی اے کے ایک جائزے کے مطابق امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایران کو مزید چار ماہ تک شدید معاشی دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس انکشاف نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تاہم ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار نے اس رپورٹ کو غلط قرار دیا ہے۔

تناؤ صرف آبی گزرگاہ تک محدود نہیں رہا، متحدہ عرب امارات نے تصدیق کی ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے جمعہ کو ایران کی جانب سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں اور تین ڈرونز کو ناکارہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔ ایران نے ٹرمپ کے پروجیکٹ فریڈم کے اعلان کے بعد حملوں میں تیزی کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا کہ جب بھی سفارتی حل کی بات ہوتی ہے، امریکہ لاپرواہ فوجی مہم جوئی کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق جمعرات کی رات امریکی بحریہ کے حملے میں ایک ایرانی کمرشل جہاز کا عملہ ہلاک اور زخمی ہوا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی سے ملاقات کے بعد اتحادیوں کی جانب سے حمایت نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس دوران امریکہ نے تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے چین اور ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی دس کمپنیوں اور افراد پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن پر ایرانی ڈرون پروگرام کے لیے معاونت کا الزام ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی تجارت میں معاونت کرنے والے کسی بھی غیر ملکی ادارے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -