-Advertisement-

امن منصوبے پر ایران کا جواب تاحال موخر، امریکی سفارت کاری پر سوالات اٹھا دیے

تازہ ترین

غزہ فلوٹیلا کے گرفتار کارکنوں کی رہائی اور ملک بدری کا فیصلہ

گزشتہ ماہ غزہ جانے والے امدادی قافلے کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے روکے جانے کے بعد حراست میں...
-Advertisement-

خلیج فارس میں بحری جھڑپوں کے نئے واقعات کے بعد ایران نے امریکی سفارت کاری کی سنجیدگی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ تہران کی جانب سے واشنگٹن کی تازہ ترین پیشکش پر کوئی ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ انہیں ایران کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع اور امن مذاکرات کے حوالے سے جواب کی توقع ہے تاہم اس حوالے سے کوئی پیش رفت ظاہر نہیں ہوئی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو میں امریکی قیادت کے قابل اعتبار ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خلیج فارس میں امریکی افواج کی حالیہ اشتعال انگیزی اور جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی نے سفارتی عمل میں امریکی نیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

جمعہ کے روز ایک واقعے میں امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران کے دو آئل ٹینکرز کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کو چیلنج کر رہے تھے۔ ایرانی عسکری حکام کے مطابق ایران کی بحریہ نے امریکی دہشت گردی کا جواب دیا ہے اور اب جھڑپیں تھم چکی ہیں۔ یہ کشیدگی آبنائے ہرمز کے قریب ہوئی جسے ایران اپنے کنٹرول میں لے کر عالمی جہاز رانی پر اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ تہران کا اس اہم تجارتی راستے پر کنٹرول ناقابل قبول ہے۔ امریکا نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایران کو جنگ بندی میں توسیع کی تجویز دی ہے تاکہ دس ہفتے قبل شروع ہونے والے تنازع کا حتمی حل نکالا جا سکے۔ ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ یہ تجویز تاحال زیر غور ہے۔

ادھر قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی جس میں پاکستان کی قیادت میں امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری جانب ایران کے جزیرہ خارگ کے قریب سمندر میں تیل کا ایک بڑا پھیلاؤ دیکھا گیا ہے جو بیس مربع میل سے زائد رقبے پر محیط ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پھیلاؤ تیل تنصیبات سے اخراج کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

خلیج میں کشیدگی کے درمیان لبنان میں قائم جنگ بندی بھی دباؤ کا شکار ہے۔ لبنانی میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز بیروت کے جنوب میں تین فضائی حملے کیے گئے، حالانکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تین ہفتوں سے جنگ بندی نافذ ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان آئندہ ہفتے واشنگٹن میں براہ راست مذاکرات متوقع ہیں، جن کی حزب اللہ شدید مخالفت کر رہی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -