-Advertisement-

بھارتی ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کی تباہی ایک اہم واقعہ قرار

تازہ ترین

بھارت معرکہ حق میں شکست کبھی نہیں بھولے گا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی تاریخی شکست کو کبھی...
-Advertisement-

معرکہ حق کے دوران نو مئی کو پاکستان نے دنیا کے جدید ترین روسی ساختہ فضائی دفاعی نظام ایس فور ہنڈریڈ کو تباہ کر کے ایک تاریخی کارنامہ سرانجام دیا۔ بھارت کو اپنے اس دفاعی نظام پر شدید ناز تھا اور یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ یہ سسٹم آواز کی رفتار سے چودہ سے پندرہ گنا تیز رفتار کروز اور بیلسٹک میزائلوں کو بھی ہدف بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بھارتی حکام کا ماننا تھا کہ کوئی بھی پاکستانی میزائل اس حصار کو توڑنے سے قاصر ہے تاہم جنگی کارروائی کے دوران پاکستان نے دیگر اہداف کے ساتھ ساتھ ایس فور ہنڈریڈ کو بھی ناکارہ بنا دیا جس سے بھارتی عسکری حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس دعوے کو جھٹلانے کے لیے میزائل لانچر کے سامنے تصاویر بنوائیں تاہم یہ حکمت عملی ناکام ثابت ہوئی۔

ایس فور ہنڈریڈ سسٹم کمانڈ سینٹر ٹرک، ریڈار ٹرک اور میزائل لانچر ٹرک پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں ہر بٹالین کے ساتھ مختلف مقامات پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے ادہم پور میں اس سسٹم کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا جس کے بعد بھارت کو جنگ بندی کے بعد ادہم پور ایئربیس پر نیا کمانڈ سینٹر قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

بھارتی نشریاتی ادارے اے بی پی نیوز کی رپورٹ کے مطابق بہار سے تعلق رکھنے والا رام بابو سنگھ اس سسٹم کا آپریٹر تھا جو اس حملے میں ہلاک ہوا۔ حملے کے وقت رام بابو کمانڈ سینٹر کے اندر موجود تھا۔ بھارتی حکومت نے اس حقیقت کو چھپانے کے لیے متضاد بیانات دیے اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ رام بابو کا تعلق بی ایس ایف سے نہیں بلکہ انڈین آرمی سے تھا اور اس کا ایس فور ہنڈریڈ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ عالمی سطح پر یہ حقیقت تسلیم کی جا رہی ہے کہ نو مئی کو پاکستان نے بھارت کے اس جدید ترین دفاعی نظام کو تباہ کر کے اپنی برتری ثابت کی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -