-Advertisement-

امریکی حملوں پر ایران کی سخت جوابی کارروائی کی دھمکی

تازہ ترین

امریکی ووٹرز میں ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کے خلاف عدم اطمینان میں اضافہ، سروے رپورٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مہنگائی اور معاشی بحران سے نمٹنے کے اقدامات پر نصف سے زائد...
-Advertisement-

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فوج نے سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ ایرانی آئل ٹینکرز یا تجارتی بحری جہازوں پر کسی بھی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈوں اور بحری اثاثوں پر بھرپور جوابی کارروائی کی جائے گی۔ یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان قائم نازک جنگ بندی کے ٹوٹنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان امریکہ کی جانب سے دو ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹینکرز ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس واقعے نے ایک ماہ قبل ہونے والی اس جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں جسے امریکہ اب بھی برقرار ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید مجید موسوی نے ایک الگ بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران کے جدید میزائل اور ڈرونز خلیج فارس میں امریکی اہداف اور دشمن کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور صرف فائرنگ کے حکم کے منتظر ہیں۔ ہفتے کی شام سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ میزائل اور ایرو اسپیس ڈرونز دشمن پر لاک کیے جا چکے ہیں اور ہم صرف کمانڈ ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

یہ صورتحال خطے میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پیدا ہوئی ہے۔ جاسک کے قریب امریکی افواج کی جانب سے ایرانی جہازوں پر حملے کے بعد پاسدارانِ انقلاب کی بحری فوج نے مبینہ طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے اینٹی شپ بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور بارود سے لیس ڈرونز کا استعمال کیا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ان حملوں سے امریکی اثاثوں کو بھاری نقصان پہنچا جس کے بعد امریکی جہازوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -