سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے قائدین نے خبردار کیا ہے کہ کراچی اور ساحلی اضلاع کو وفاقی تحویل میں لینے کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت سیاسی مزاحمت کی جائے گی۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مقامی حکومت کے قوانین میں ترامیم کی آڑ میں کیے جا رہے ہیں۔
حیدرآباد میں جئے سندھ محاذ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ریاض علی چانڈیو نے دعویٰ کیا کہ سندھ کے ساحلی شہروں پر وفاقی گرفت مضبوط کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت اور جاگیردارانہ عناصر اس معاملے میں وفاقی حکومت کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔
ریاض چانڈیو نے مزید کہا کہ دریائے سندھ پر نئے کینالز کی تعمیر خاموشی سے جاری ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت والی سندھ حکومت لاعلمی کا ڈرامہ کر رہی ہے۔ انہوں نے اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا کہ اس کے ذریعے قومی اسمبلی کو صوبائی حدود تبدیل کرنے کا اختیار مل سکتا ہے جس کا مقصد نئے صوبے بنا کر سندھ کی تاریخی شناخت کو مٹانا ہے۔
جئے سندھ محاذ کے چیئرمین نے صوبائی حکومت کو بدعنوانی، ناقص حکمرانی اور بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکام کی ملی بھگت سے کچے کے علاقوں میں جرائم اور قبائلی تصادم کو فروغ دیا جا رہا ہے اور صوبے میں غیرت کے نام پر قتل کو ایک ادارہ جاتی شکل دے دی گئی ہے۔
ادھر ضلع جامشورو کے علاقے نوری آباد میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قومی عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو نے بھی پیپلز پارٹی کی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے انہیں اور ان کے حامیوں کو جلسہ گاہ پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی، جس کے بعد انہیں پیدل سفر کرنا پڑا۔
ایاز لطیف پلیجو نے پیپلز پارٹی کے جمہوری دعووں کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت عوام کو اشرافیہ کا غلام بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر سندھ کو کرپشن کی کالونی بنانے کا الزام لگایا اور صوبائی انتظامیہ کو بدامنی، اغوا برائے تاوان اور کسانوں و مزدوروں کے استحصال کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
قومی عوامی تحریک کے سربراہ نے وفاقی حکومت کے کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں کے لیے زرعی زمینوں کی منتقلی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مرکز سندھ کے وسائل لوٹنے میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ صوبے کے کروڑوں عوام کو درپیش امن و امان اور حکمرانی کے بنیادی مسائل سے دانستہ چشم پوشی کی جا رہی ہے۔
