غزہ میں اسرائیلی فضائی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اتوار کے روز کم از کم تین فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ ان ہلاکتوں نے امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی کمزوری کو مزید عیاں کر دیا ہے۔
وسطی غزہ کے المغازی پناہ گزین کیمپ میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں ایک فلسطینی شہید اور دو زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ان افراد کو نشانہ بنایا جو مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے اور ان کی فورسز کے قریب پہنچ کر خطرہ پیدا کر رہے تھے۔
ایک اور واقعے میں، خان یونس کے علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے کے دوران حماس کے زیر انتظام محکمہ داخلہ کے مطابق کرمنل پولیس کے سربراہ وسام عبد الہادی اور ان کے معاون شہید ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائی حماس کی ایلیٹ فورس کے جنگجوؤں کے خلاف کی گئی جو اسرائیلی فوج پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ میں حماس کی پولیس فورس کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو علاقے میں نظم و ضبط قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود تشدد کا یہ سلسلہ تھم نہیں سکا ہے اور اسرائیل کی جانب سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
مقامی طبی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک 850 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران چار اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ دونوں فریقین ایک دوسرے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
خان یونس کے علاقے العمل میں پولیس افسران کی گاڑی پر حملے کے بعد مقامی لوگوں نے غم و غصے کا اظہار کیا۔ شہداء کی آخری رسومات کے دوران علی موسیٰ نامی شہری نے کہا کہ قابض فوج پولیس افسران کو نشانہ بنا کر غزہ میں افراتفری پھیلانا چاہتی ہے۔
اکتوبر 2023 سے جاری اس جنگ میں اب تک 72 ہزار 500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
