-Advertisement-

ایران کی جانب سے امریکی امن تجویز مسترد ہونے پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 ڈالر اضافہ

تازہ ترین

ایران: جنگ کے خدشات کے پیشِ نظر تاریخی مقامات کی حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات

تہران کے تاریخی ورثے پر جنگ کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس کے باعث عالمی ثقافتی ورثہ قرار...
-Advertisement-

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ تیزی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ردعمل کو ناقابل قبول قرار دیے جانے کے بعد سامنے آئی، جس نے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر سپلائی کے خدشات کو مزید ہوا دی ہے۔

برینٹ کروڈ آئل کے سودے 4 ڈالر اور 4 سینٹ یعنی 3 اعشاریہ 99 فیصد اضافے کے بعد 105 ڈالر 33 سینٹ فی بیرل پر پہنچ گئے۔ اسی طرح یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 4 ڈالر 43 سینٹ یعنی 4 اعشاریہ 64 فیصد اضافے کے ساتھ 99 ڈالر 85 سینٹ فی بیرل ہو گئی۔ گزشتہ ہفتے ان معاہدوں میں 6 فیصد تک کی کمی دیکھی گئی تھی، جس کی وجہ یہ امید تھی کہ دس ہفتوں سے جاری تنازع جلد ختم ہو جائے گا اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال ہو سکے گی۔

مارکیٹ تجزیہ کار پرینکا سچدیوا کا کہنا ہے کہ تیل کی منڈی جیو پولیٹیکل خبروں کے زیر اثر ہے اور واشنگٹن و تہران کے بیانات پر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ صدر ٹرمپ بدھ کے روز بیجنگ پہنچیں گے جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں ایران سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائیکامور کے مطابق سرمایہ کاروں کی نظریں اب صدر ٹرمپ کے دورہ چین پر مرکوز ہیں، کیونکہ امید کی جا رہی ہے کہ وہ بیجنگ کو آمادہ کریں گے کہ وہ ایران پر اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ آبنائے ہرمز میں جاری تعطل کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

سعودی آرامکو کے سی ای او امین ناصر نے اتوار کو کہا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران دنیا کو تقریباً ایک ارب بیرل تیل کا نقصان پہنچا ہے اور اگر سپلائی بحال بھی ہو جائے تو توانائی کی منڈیوں کو مستحکم ہونے میں وقت لگے گا۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق، گزشتہ ہفتے تین مزید آئل ٹینکرز ایرانی حملوں سے بچنے کے لیے ٹریکرز بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزرے، جو مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات برقرار رکھنے کی مشکل صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔

اے این زیڈ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 کے اواخر تک بھی آبنائے ہرمز میں تعطل کا خطرہ برقرار رہے گا، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں جیو پولیٹیکل رسک پریمیم شامل رہے گا۔ ان کا تخمینہ ہے کہ برینٹ آئل کی قیمت 2026 میں 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہے گی، جبکہ 2027 میں اس کے 80 سے 85 ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ سپلائی میں تعطل کے اثرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے درآمد کنندہ چین کی جانب سے تیل کی درآمدات اپریل میں گزشتہ چار برسوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -