امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر وائٹ ہاؤس رپورٹرز گالا کے دوران قاتلانہ حملے کی کوشش کرنے والے ملزم کول ایلن نے پیر کے روز عدالت میں تمام الزامات سے انکار کر دیا ہے۔
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے اکتیس سالہ کول ایلن کی جانب سے ان کے وکیل تیزرا ابے نے عدالت میں صحت جرم سے انکار کی استدعا پیش کی۔ ملزم پر صدر کے قتل کی کوشش، وفاقی اہلکار پر حملہ اور اسلحہ رکھنے سمیت دیگر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر کے دوران سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر دھاوا بولا اور ایک سیکیورٹی ایجنٹ پر شاٹ گن سے فائرنگ کی۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزم ٹرین کے ذریعے واشنگٹن پہنچا تھا اور اس کے پاس شاٹ گن، پستول اور چھریاں موجود تھیں۔ اس نے اسی واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں کمرہ بُک کر رکھا تھا جہاں پچیس اپریل کو تقریب منعقد ہوئی تھی۔
عدالتی کارروائی کے دوران ملزم نارنجی رنگ کا قیدی لباس پہنے ہوئے تھا اور اس کے ہاتھ پاؤں بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ یہ واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں جج ٹریور میک فیڈن کے سامنے اس کی پہلی پیشی تھی۔ گزشتہ ہفتے ایک اور جج نے ملزم کو مقامی جیل میں تنہائی اور خودکشی سے بچاؤ کے اقدامات کے نام پر دیے جانے والے سخت رویے پر معافی مانگی تھی۔
مقدمے کی سماعت کے دوران دفاعی وکلاء نے اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ اور امریکی اٹارنی جینین پیرو کو کیس سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وکیل یوجین اوم کا کہنا ہے کہ جینین پیرو تقریب میں موجود تھیں اور وہ خود بھی ملزم کا ہدف ہو سکتی تھیں، اس لیے ان کی سربراہی میں مقدمہ چلانا غیر مناسب ہے۔ دفاعی ٹیم کا موقف ہے کہ متاثرین کا خود اس کیس کی پیروی کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
استغاثہ بائیس مئی تک دفاعی وکلاء کی جانب سے جمع کرائی گئی قانونی درخواست کا جواب دے گا۔ دوسری جانب جینین پیرو نے ایک انٹرویو میں اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تقریب میں موجودگی کا ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
